تازہ ترین  

ویلنٹائن ڈے اور اسلام
    |     6 months ago     |    کالم / مضامین
"جن نا جائز رشتوں کو پروان چڑھانے کے لئے
گُل و گلاب بستروں کی زینت بنائے گئے____،،
کل اُنکی کلیاں بکھڑی ملیں کوڑے دان کے پاس"

14فروری کو عالمی سطح پر منائے جانے والے تہوار کو "یومِ مُحبت" قرار دیا جاتا ھے ۔
ہمارا دینِ اسلام بھی اُخوت و محبت کو فروغ دیتا ھے اور تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی چارے کی تلقین کرتا ھے ۔
لیکن افسوس!!! کہ آج کے اس معاشرے میں پیار کو الگ ہی رنگ دے دئیے گئے ھیں جو کہ بے حیائی پھیلانے کی راہ پر گامزن ھیں ...........
ویلنٹائن ڈے رومانوی جاہلی دن ہے....... اِس دن کا جشن رومانیوں کے عیسائیت میں داخل ہونے کے بعد بھی جاری رہا، اس جشن کو ایک ویلنٹائن نامی پوپ سے جوڑا جاتا ہے جسے 14 فروری 270 عیسوی کو پھانسی کا حکم دے دیا گیا تھا...... کفار ابھی بھی اس دن جشن مناتے ہیں، اور برائی و بے حیائی عام کرتے ہیں ۔
جبکہ اگر اسلام کی روشنی میں دیکھا جائے تو........
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"سالانہ دن منانا ایسا منہج ، مسلک اور شریعت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
( لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا )
ترجمہ: ہم نے ہر ایک کے لئے شریعت اور منہج بنا دیا ہے۔ (المائدۃ-48)

اسی طرح فرمایاگیا کہ:
( لكل أمة جعلنا منسكا هم ناسكوه )
ترجمہ: ہم نے ہر ایک امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا جس پر وہ چلتے ہیں۔
(الحج- 67)
لیکن آج کے دور میں پھیلتی یہ بے حیائی کسی وباء کی طرح نوجوان نسل کو کھائے جا رہی ھے ۔ ہر سال اس تہوار کو منانے والوں کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ھے، لوگ پڑھے لکھے اور دائرہِ اسلام کے متعلق مکمل واقفیت رکھنے کے باوجود بھی اِس کے چُنگل سے خود کو بچا نہیں پا رہے۔
اِسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں اس دن کو بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ھے اور اس دن کی خاصیت ھے کہ تمام محبت کرنے والے آپس میں پیار کا اظہار کرتے ھیں، اور مختلف تحائف کا بھی تبادلہ کیا جاتا ھے ۔ اس دن کو منانے کیلئے سُرخ گلاب کے پھولوں کے گلدستے پیش کئے جاتے ھیں اور لال رنگ زیب تن کیا جاتا ھے اور میٹھے میں عام طور پر چوکلیٹس وغیرہ.... ایکدوسرے کو پیش کی جاتیں ھیں ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، آپ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس اس وقت انصاریوں کی دو بچیاں تھیں جو بُعاث کے دن انصار کی طرف سے کہے جانے والے اشعار گنگنا رہی تھیں، آپ کہتی ہیں کہ : وہ دونوں کوئی گلوکارہ بھی نہیں تھیں، انہیں سن کر ابو بکر نے کہا:کیا شیطانی بانسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں! یہ کام عید کے دن ہو رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو بکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے)
ابو داود نے (1134) میں روایت کی ہے کہ حضر انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ دو دن کیا ہیں؟) تو صحابہ کرام نے جواب دیا: ہم جاہلیت میں ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یقیناً اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بہتر دو دن عطا کئے ہیں؛ عید الاضحی اور عید الفطر) اس حدیث کو البانی نے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عید تہوار کسی قوم کے ایسے خصائص میں سے ہے جن سے وہ دیگر اقوام سے امتیاز حاصل کرتی ہیں، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ جاہلی اور مشرکوں کے تہوار کے دن جشن منانابھی جائز نہیں ہے۔
اور اہل علم نے ویلنٹائن ڈے منانے کے بارے میں حرام ہونے کا فتوی بھی دیا ہے۔
اب بحیثت مسلمان یہ ہم پر فرض ھے کہ ہم خود بھی اس گناہ سے بچیں اور دوسروں کو بھی روکیں ۔کیونکہ اسلام محبت کی تلقین ضرور کرتا ھے مگر اُس محبت اور اِس محبت میں زمین و آسمان کا فرق ھے .......وہ محبت ہمارے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا کرتی ھے جبکہ یہ محبت ہمیں اسلام سے رب سے دور بے حیائی کیطرف دھکیل رہی ھے ۔
میرا نہیں خیال کے محبت کے اظہار کے لئے کوئی مخصوص دن بھی بنایا جا سکتا ھے،کسی بھی جائز رشتے کیلئے محبت ہمارے دل میں ہونی چاہئے جو کہ کسی قسم کے دکھاوے کی محتاج نہ ہو..... ہم نے خود اس بے حیائی کو محبت کا نام دے کر "محبت" کو بدنام کر دیا ھے ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved