تازہ ترین  

ایک مثالی اور ملنسار شخص کی یاد میں
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین
کوئی بھی مہذب معاشرہ اس میں بسنے والے افراد کے باہمی میل جول اور تعلق کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مذاہب خصوصاً اسلام میں اس باہمی میل جول کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ بلکہ اسلام میں تو یہاں تک حکم ہے کہ کسی اجنبی شخص کو بھی سلام کرنے میں پہل کرو اور مصافحہ کیا کرو کیونکہ ایسا کرنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔

عام طور پر میل جول اور تعلق رکھنے کے حوالے سے طبیعت کے اعتبار سے معاشرے میں دو طرح کے افراد پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جو کسی بھی غیر یا اجنبی شخص سے ملنے سے کتراتے ہیں۔ انہیں اپنے آپ میں رہنا پسند ہوتا ہے۔ ایسے لوگ تنہائی پسند اور Interovert کہلاتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے لوگ آپس میں گھلنا ملنا اور میل جول رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر اجنبی سے بھی یوں ملتے ہیں گویا سالوں کی جان پہچان ہو۔ اور جلد ہی اپنی باتوں سے دوسرے کا دل موہ لیتے ہیں۔ ایسے افراد کو دنیا ملنسار اور خوش اخلاق کے نام سے جانتی ہے۔

والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید کا شمار بھی ایسے ملنسار، خوش اخلاق اور خوش طبیعت افراد میں ہوتا ہے جو زندہ دلی، گرمجوشی اور خوش اخلاقی سے اپنے مخاطب کا دل موہ لیا کرتے تھے۔ ان سے ایک بار ملنے والا باقی تمام عمر انہیں بھول نا پاتا اور بار بار ملنے کی خواہش رکھتا تھا۔ اپنا ہو یا پرایا، اجنبی ہو یا مانوس ہر کوئی ان کی شخصیت کا گرویدہ تھا۔

ایک ملنسار انسان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں عاجزی و انکساری زیادہ ہوتی ہے اور تکبر نام کو نہیں ہوتا۔ یہ خوبی بھی والد محترم کی ذات میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ تنہائی کی بجائے محفل میں رہنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ پورے پاکستان میں ان کے جاننے والے اور ان کی شخصیت کو پسند کرنے والے موجود تھے۔ جہاں جہاں وہ گئے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے جس جس علاقے میں انہوں نے قیام کیا۔۔۔ وہیں وہیں انہوں اپنے تعلقات بنائے۔

عبدالرزاق کھوہارا شہید کی ملنسار طبیعت کا یہ عالم تھا کہ ان سے پیار کرنے والوں کی کمی نا تھی۔ ان کی وفات کے بعد بھی دوردراز سے ان کے جاننے والوں کے فون آتے رہے۔ انہیں جب پتہ چلتا کہ ان کا محبوب دوست اب اس دنیا میں نہیں رہا تو فون پر ہی رونے لگتے۔ ایسا کئی بار ہوا کہ مختلف افراد کے فون آئے اور انہوں نے بتایا کہ وہ ساری زندگی میں والد صاحب سے فقط ایک بار ملے لیکن ان کی ملنسار طبیعت کے اتنے گرویدہ ہو گئے کہ بعد میں یہ تعلق تمام عمر رہا۔

بطور ایک مثالی ملنسار انسان کے والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید کسی غیر یا اجنبی شخص سے بات کرتے ہوئے جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ بڑے بڑے اعلی افسران اور سیاسی شخصیات سے اس پر اعتماد طریقے سے گفتگو فرماتے کہ انہیں محسوس ہی نا ہوپاتا کہ اس شخصیت سے ان کا تعلق نیا ہے یا سالوں پرانا۔ بات سے بات نکالنا، لطیفہ گوئی اور شگفتہ الفاظ کا استعمال، حکمت و دانائی سے بھرپور گفتگو اور کمال درجے کی بذلہ سنجی و حاضر جوابی۔۔۔ یہ تمام ایسے اوصاف تھے جو پل بھر کی ملاقات کو برسوں کے یارانے میں بدل دیتے تھے۔

دعا ہے کہ اللہ پاک ایسی بے مثال اور ملنسار شخصیت کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسے اوصافِ حمیدہ کا مالک بںائے۔ آمین





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved