تازہ ترین  

انجمن ترقی پسند مصنفین گجرات کے زیر اہتمام ممتاز سندھی دانشور رسول بخش پلیجو کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام
    |     3 months ago     |    گوشہ ادب
گجرات(آپکی بات ڈاٹ کام) انجمن ترقی پسند مصنفین گجرات کے زیر اہتمام ممتاز سندھی دانشور رسول بخش پلیجو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے المیر ٹرسٹ لائبریری میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دانشور پروفیسر وسیم بیگ مرزا نے کہا رسول بخش پلیجو کو پنجابی، سرائیکی، انگریزی ، عربی اور فارسی زبان پر دسترس حاصل تھی، سماجیت سیاست اور مارکسی معاشیات پر چوبیس سے زیادہ کتابیں تحریر کیں اور لا تعداد کتابچے لکھے ان کی کہانیاں اور شاعری سندھ میں بہت مقبول ہوئی ممتاز دانشور افتخار بھٹہ نے کہا رسول بخش پلیجو علم اور دانش کے پیمانے میں آلہ مقام رکھتے تھے ان کا سندھ کی مزاحمتی سیاست میں اچھوتا کردار رہا ہے علمی لحاظ سے کوئی بائیں بازو کا دانشور رسول بخش پلیجو کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے وہ نظریاتی طور پر مارکسسٹ اور بائیں بازو کی سیکو لر سیاست کرتے تھے ادب فلسفہ اور تاریخ کا وسیع مطالعہ تھا وہ جدلیاتی معادیت کے مفکر تھے عوامی تحریک کی بنیاد رکھی عورتوں کے حقوق کی سندھیالی تنظیم قائم کی جس کی مثال نہیں ملتی ہے ان کے خیالات سے اختلافات کیا جا سکتا ہے لیکن علمی سطح پر دلیل کے حوالہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے ممتاز سندھی دانشور نور الخدا شاہ کے بقول وہ سندھ دھرتی کا پیارا غدار جس نے تین نسلوں کی ذہنی تربیت کی اور حقوق کیلئے احتجاج و مزاحمت کا طریقہ سکھایا شاعروں سے مزاحمتی انقلابی شاعری کروائی اور سندھی لڑکیوں کو عملی سیاست میں اتارا ممتاز سیاسی کارکن سید باقر رضوی نے کہا سندھ میں بائیں بازو کی سیاست کے حوالہ سے جام ساقی کے بعد رسول بخش پلیچو کا دوسر بڑا نام ہے انہوں نے سندھ میں رجعت پسندوں کے اٹھائیں ہوئے فتنوں کو اپنی تقاریر مضامین اور مبحثوں کے ذریعے شکست دی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ سندھ کے غریب مرد اور عورت کو سیاسی مطالعہ سے لیس کر کے انقلابی سیاست میں لے آئے ، ممتاز محقق اور تاریخ دان عارف علی میر نے کہا رسول بخش پلیجو کا شمار ان پاکستان کے چند صاحب مطالعہ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف موضوعات پر لا تعداد کتابیں پڑھیں اور استفادہ حاصل کیا وہ ترقی پسند سندھ کا روشن خیال استعارہ تھے ۔ممتاز ترقی پسند سماجی راہنما خالد پرویزمنگا نے کہا رسول بخش پلیجو نے سندھ کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں بلا شبہ ان کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ، تعزیتی ریفرنس میں نومی چوہدری، مصطفی علی میر، ڈاکٹر عثمان علی بھٹہ، علی چوہدری، ندیم اللہ ایڈووکیٹ، شارخ خان،گلریز شوکت، خالد پرویز لون اور چوہدری اختر حسین وغیرہ نے شرکت کی۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved