تازہ ترین  

Khudshanasi
    |     6 months ago     |    افسانہ / کہانی


خود شناسی

اِک طویل مدت بعد 
آج خودشناسی کے عمل سے گزر رہی ہوں  
زندگی کی کتاب کا ہر اِک باب کھو ل رہی ہوں 
ہر ورق پلٹ کر دیکھا تو یہ احساس ہوا
آج خود کو پہچان کر یہ انکشاف ہوا 
کہ دل آج بھی درد سے خالی نہیں ہے
ذہن پر کچھ اُلجھی ہوئی سوچوں کا بسیرا ہے 
آنکھیں اداسی کے سمندر سے اشکبار ہیں 
باطن آج بھی مایوسی کی گرد سے اَٹا ہوا ہے 
مسکراہٹ بھی اب مدھم ہو چکی ہے 
غم سے نڈھال یہ وجود اب ٹوٹ سا گیا ہے
اِ ن معصوم آنکھوں کے گرد اب سیاہ حلقے پڑ گئے ہیں 
اب کچھ خواب مُرجھا سے گئے ہیں 
اور ازیتیں بھی بے شمار ہیں 
اب کچھ بے ربط سی باتیں ہیں 
کچھ اَن کہے جذبات ہیں 
کچھ ادھوری خواہشات کا ذخیرہ ہے
ہر سمت پھیلا ہوا انتشار ہے 
کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار ہے ۔


تحریر : پرھ اعجاز
کراچی 






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved