تازہ ترین  

آہ پاکستان کے نامورپنجابی شاعروادیب ڈاکٹر عادل صدیقی ؒ وفات پاگئے
    |     5 months ago     |    گوشہ ادب
معروف پنجابی شاعرڈاکٹرعادل صدیقی سابق صدرشعبہ اردوگورنمنٹ سیٹلائیٹ ٹائون کالج گوجرانوالہ مرکزی رکن مجلس عاملہ پاکستان رائٹرزگلڈ 65برس کی عمرمیں وفات پاگئے ۔ان کا شمارپاکستان کے صف اول کے پنجابی شاعروں اورادیبوں میں تھا ۔پاکستان ٹیلی ویژن اورریڈیوپرمشاعرے پڑھنے کاانکو اعزازحاصل تھا۔احسان دانش ومنیرنیازی سجیسے شاعروادیب ان کے مداح تھے ،غلام مصطفی بسمل ،سجاد النبی ،انورمسعود،عطاء الحق قاسمی ،امجداسلام امجدڈاکٹرحفیظ احمد،ڈاکٹراجمل نیازی ،جان کاشمیری ،ڈاکٹراحسان اللہ طاہر،اکبرعلی غازی،ضیاء محمد ضیاء اوردیگرمعروف شعراء وادبا ء کی ہم عصری ومجلس انکوحاصل تھی اوروہ انکی ۔اوروہ انکی پنجابی زبان سے والہانہ عشق تھاپنجابی کے علاوہ اردومیںبھی اشعار کہتے تھے ان کے اردوشعری مجموعے بھی ادبی دنیامیںاپناایک بلندمقام ومرتبہ رکھتے ہیں ۔ڈاکٹرعادل صدیقی ؒمرحوم (محمد شبیرصدیقی) کی پیدائش عبدالعظیم صدیقیؒ (مرحوم )کے ہاں 5دسمبر1954ء کو برہان پور چوہان تحصیل پسرورضلع سیالکوٹ میں ہوئی برہان پورضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرورکایک چھوٹاسادیہات ہے لیکن ۔آپ برہان پور چوہان کی ایک بلند ہمت ،محنتی اورانتہائی قابل فخرعلمی وادبی شخصیت تھے جنہوں نے انتہائی کسمپرسی کے باوجود تعلیم سے وابستگی رکھی اورشب وروز محنت کی وجہ سے پے درپے ترقیاں حاصل کیں آپ ایک اچھے معلم اور بہترین شاعروادیب بنے مزیدڈاکٹر صاحب کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ وہ برہان پور کے پہلے پی ایچ ڈی سکالر تھے جنہوںنے بعنوان ’’مولابخش کشتہ شاعر تے نثرنگار‘‘پرپی ایچ ڈی کامقالہ لکھ کر2003میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
۔آپ حلقہ احباب ذوق پسرورکے اوّلین جنرل سیکرٹری ہونے کے ساتھ انجمن ترقی برائے پنجابی واردوادب برہان پوراورمجلس علمی کے صدرتھے ۔پاکستان کے معروف شاعروادیب فخربرہان پو رپروفیسر حفیظ صدیقی ؒسابق صدرشعبہ اردوایم اے ۔او کالج لاہوروجنرل سیکرٹری پاکستان رائٹرزگلڈکے شاگردخاص ہونے کے علاوہ پھوپھی زادبھائی بھی تھے ۔آپ کے پندرہ ۱۵شعری مجموعوں کو علمی وادبی حلقوں میں شرف قبولیّت حاصل ہے ۔جب کہ سولہواں ۱۶مجموعہ ’’رُتاں بدلن والیاں نیں‘‘طباعت کے آخری مراحل میں ہے لیکن اسکی طباعت سے قبل ہی آپ آخرت کوسدھارگئے اللہ تعالی انکوجنت الفردوس میں بلندمقام عطافرمائے ۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ آپ کی مشہور تصنیف حمد ونعتــ’’بھاگاں والے اکھر‘‘ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پنجابی کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں شامل ہے ۔
شعبہ تعلیم سے وابستگی :
آپ نے 10اکتوبر 1973ء کو بطور PTC ٹیچر گریڈ(9)میں گورنمنٹ پرائمری سکول دھامونکے درویشکے سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا ۔
1980ء کو بطور SV ٹیچر گریڈ(9)میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول کلاسوالہ میں آپ کی تقرری ہوئی۔
1986 ء کو گریڈ(14)میں آپ کی ترقی ہوئی اورکشمیر ہائی سکول سوہاوہ میں تقرری ہوئی ۔
پنجاب سروس کمیشن کے ذریعے کالج میں تقرری :
11مئی 1987ء کو بطور لیکچرر(پنجابی )گریڈ (17)میں گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں آپ کا تقرر ہو ا۔
27مئی 1999ء کو بطور اسسٹنٹ پروفیسرگریڈ(18)میں آپ کی تقرری گورنمنٹ کالج میانی سرگودھا میں ہوئی ۔
20-04-1999کو بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج مترانوالی میں آپ کا تقرر ہوا۔
2004تا 2006گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور میں بطور صدر شعبہ پنجابی آپ نے اپنی خدمات سرانجام دیں ۔
2006ء میں بطور صدر شعبہ پنجابی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں آپ کا تقرر ہوا۔
4دسمبر2014ء کو اسی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسرگریڈ (19)میں آپ نے ریٹائرمنٹ حاصل کی ۔
اعزازات :
آپ ایک محنتی اورمستقل مزاج انسان تھے اسی وجہ سے آپ کو اپنی بہترین خدمات کی وجہ سے بے شمارانعامات سے نوازا گیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1 ۔ ایم ۔اے پنجابی میں پنجاب یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر خصوصی انعام ملا۔
2۔ کتاب’’کلر وچ گلاب ‘‘پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز تصنیف کتب انعامی مقابلہ سال 1996میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔
کتاب ’’نوید موسم گل‘‘ پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز تصنیف کتب انعامی مقابلہ سال 2000میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔
کتاب ’’ کچ دیاں ٹونباں ‘‘ پر مسعود کھدرپوش ٹرسٹ لاہور کی جانب سے پہلا انعام ۔
سیٹیزن کونسل پسرور کی جانب سے تحصیل پسرور کے بہترین شاعر کے طور پراعزازی شیلڈ ۔
ڈاکٹر عادل صدیقی کی اردوشاعری پر الخیر یونیورسٹی آزاد جموں کشمیرسے ایم ۔فل ۔اردوکی طالبہ شاہدہ پروین نے ایک مقالہ بعنوان’’ ڈاکٹر عادل صدیقی:شخصیت و فن ‘‘ مکمل کیا ہے اس کے علاوہ ان کی پنجابی شاعری پر بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم ۔فل پنجابی پر کام ہورہا ہے ۔
پنجابی واردوشعری تصانیف :
ڈاکٹر عادل صدیقی کے ابھی تک تین اردواوربارہ پنجابی شعری مجموعے چھپنے کے بعد اہل علم ودانش سے داد وصول کرچکے ہیں جنکی تفصیل درج ذیل ہے اوراس کے علاوہ غیر مطبوعہ مجموعوں پر ابھی کام جاری ہے ۔
1۔ پالے ٹھردے پنچھی
2۔ برفان ونڈداسورج
3۔ کلّر وچ گلاب
4۔ جگنو،پھُل تے تتلی
5۔ نویدِموسم گُل
6۔ بنداکھیاں وچ منظر
7۔ کچ دیاں ٹونباں
8۔ بھاگاں والے اکھر
9۔ غزل تم سے عبارت ہے
10۔ حرف صداواں لبھدے نیں
11۔ سُولاں نال پریت
12 ۔ ابھی کچھ خواب باقی ہیں
13۔ سوچاں وچ سویرے
14۔ سدھراں دے پرچھاویں
15 ۔ من وچ وسدے چیتر
16۔ رُتاں بدلن والیاں نیں
وفات :
آپ تقریبا۵سال سے صاحب فراش تھے لیکن اس کے باوجودان کاشعروادب سے ایک لمحہ کے لئے رشتہ منقطع نہیں ہواانکے قلب واذہان کی رفعتوںکوانکی بیماری بھی شکست نہ دے سکی یہاںتک کہ وفات سے کچھ گھنٹے قبل بھی ایک آخری غزل لکھوائی ۔اس کے بعدطبیعت کی ناسازی میں شدت آئی جس کے باعث انہیں گورنمنٹ سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کردیاگیاجہاں ۹جنوری 2019ء بروزبدھ رات 1بج کر10منٹ پرمیں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔
مرتب :
محمد صہیب فاروق(برہان پور چوہان )







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved