تازہ ترین  

روشنی دونوں طرف
    |     2 months ago     |    گوشہ ادب
ہمیں نہ دفن کروکچی پکی قبروں میں
ہم اہل علم ہیں مر کر بھی جو نہیں مرتے
اس خوبصورت شعر کے خالق ظہور چوہان صاحب ہیں ۔آپ کا آبائی شہر ملتان شریف ہے اور آپ کی شاعری میں ملتان سے عقید ت خوب جھلکتی ہے ۔آپ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں ۔لیکن میرا موضوع اُن کی سوانح عمری نہیں بلکہ اُن کے شاعری مجموعہ ’’روشنی دونوں طرف ‘‘ہے جس سے یہ خوبصورت شعر لیا گیا ہے ۔
شاعری !تیری طلسمات جگانے کے لئے
میں نے اپنی تجھے حیرانی عطا کر دی ہے
’’روشنی دونوں طرف‘‘ ظہور چوہان کا چوتھا شاعری مجموعہ ہے ۔یہ مجموعہ 144صفحات پر مشتمل ہے اور اس سے پہلے ’’ہجر اک مسافت ہے ‘‘’’پس غباراِک ستارہ ‘‘’’گونجی صداحویلی میں ‘‘اُردو ادب میں اپنا مقام اور شہرت پاچکے ہیں ۔

یوں ظہور چوہان اردوشاعری میں ایک بلند مقام پر فائز نظر آتے ہیں اور آپ کا فن کے راز بدرجہ اُتم اُبھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔
بڑھنے دیتا ہی نہیں شاخ بھلے جیسی ہو
اپنے ہی جسم میں آرے کی طرح رہتا ہوں
’’روشنی دونوں طرف ‘‘کے بیک فلاپ پر ’’علی تنہا‘‘لکھتے ہیں کہ ظہور چوہان نے زبان وبیان ،تکنیک ،موضوع اور اسلوب کے میدان میں کمال کے شعر نکالے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں حال یہ ہے کے سینکڑوں غزلیں پڑھتے جائیے،مشکل سے کام کے چند اشعارہاتھ آئیں گے اور یہاں عالم یہ ہے کے ہر غزل انتخاب ہے ۔میں بھی علی تنہا سے برابر اتفا ق کرتا ہوں کیونکہ میں نے ’’روشنی دونوں طرف‘‘ کو مکمل پڑھا اور پرکھا ہے ۔
اُسے تو گہرے کنویں سے نکال لایا ہوں
اب اپنے آپ کو میں کس طرح نکالوں گا
’’روشنی دونوں طرف ‘‘کی ہر غزل کیا ،ہر شعر اپنے اندر ایک جہاں آباد کیے ہوئے ہے ،یوں ظہور چوہان کے اسلوب ،موضوع ،زبان و بیان سے باخوبی واقف ہوا ہوں ۔’’روشنی دونوں طرف ‘‘ملنے سے پہلے میں ظہور چوہان کا نام سُن چکا تھا لیکن آپ کی شاعری سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا تھا ۔بھلا ہو فیس بک کا ،اس کے مرہون منت ’’روشنی دونوں طرف‘‘کی پوسٹ نظر سے گزری اور ظہور چوہان کا نمبر ملا یوں پھر’’ روشنی دونوں طرف‘‘ ملی اور روشنیوں کا جہاں میرے اردگرد آباد ہو گیا ۔
کہا کسی نے مرے جسم سے نکلتے ہی
جناب!گفتگوکرنے کی اب اجازت ہے
میں کتابی آدمی ہوں لیکن حیران ہوں کے ظہور چوہان کے شاعری مجموعوں سے کیسے محروم رہا ۔’’روشنی دونوں طرف ‘‘مل گیا تو باقی بھی ایک دن ضرور میری دسترس میں آئیں گے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کے میں ظہور چوہان سے پہلے واقف بھی نہیں تھا ۔اب جو ملے ہیں تو آخری دم تک ساتھ رہیں گے ۔انشااللہ !
اِس لئے میں نے محبت پہ محبت کی ہے
مچھلیاں دُور نہیں رہتیں کبھی پانی سے
اس کتا ب میں ایک بات حیران کن ضرور ہے کے 144صفحات کی کتاب اور قیمت 750روپے ہے ۔اس کی اشاعت الکتاب گرافکس ملتان سے ہوئی ہے ۔انتساب والد محترم الحاج منظور احمد چوہان (مرحوم )کے نام کیا گیا ہے ۔فہر ست اور اندرون فلاپ کے مطابق کل 92غزلیں ہیں جن میں ایک غزل کو تین بار دیا گیا ہے جو کے پبلشرر کی غلطی ہو سکتی ہے ۔غزل یہ ہے :
اُس کی ہر بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے
شاید غزل کے پہلے شعر کی مناسبت سے اس کو بار بار دُہرایا گیا ہے تاکہ ہمیں یہ بات بتانے کی ضرورت پڑے ۔پہلی غزل رب تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کرتی ہے :
اُسے خبر ہے کہ کیا ہے غمی ،خوشی میری
وہی ہے دوست ،اُسی سے ہے دوستی میری
خالق کی بات ہو اور محبوب کا ذکر نہ آئے کیسے ہو سکتا ہے ۔ظہو ر چوہان غزل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مداحت کے گلدستے یوں پیش کرتے ہیں ۔
دونوں جہاں کی رونقیں ،اُس ؐکے ہی دم قدم سے ہیں
ایک وہی اِدھر حسیں،ایک وہی اُدھر حسین
ظہور چوہان شاعری میں منظر کشی میں کمال مہارت رکھتے ہیں ۔میدان کربلا کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں :
ایک سے ایک جواں ،موت کی مسماری ہے
ہر کوئی کہنے لگا پہلے مری باری ہے
’’روشنی دونوں طرف ‘‘نے مجھے اپنا گرویدہ کر لیاہے ۔جس کا ہر شعر انتخاب ہے ۔کس کس شعر کی داد دوں ۔ذرا یہ شعر دیکھئے:
میں نے اپنی ذات مضبوطی سے رکھی تھام کر
جسم کی دیوار جب گِرنے لگی دونوں طرف
ظہور چوہان صنف شاعری سے باخوبی واقف ہیں اور اپنے مشاہدات ،تجزیات اور تخیل کو خوب برتتے ہیں جیسے :
دستکیں د یتاہے اندر سے مسلسل کوئی
یہ جو دھک دھک مرے سینے میں دھمک رہتی ہے
علامہ محمد اقبال ؒ کی طرح شکوہ بھی کرتے نظر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے جوابِ شکوہ بھی لکھا ہو لیکن یہاں شکوہ کناں ہیں
خدایا!دوسری کثرت سے دینا
مجھے پہلی محبت کم ملی ہے
شاعری احساسات اور جذبات کا نام ہے ۔ظہور چوہان اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں بھی کرتے ہیں :
ہم بھی پتھر مزاج ایسے ہیں
بے حسی بانٹتے ہیں لوگوں میں
اپنے محسن اور پیارے دوست محترم علی تنہا صاحب کے لیے خوبصورت اشعار میں یوں اظہار کرتے ہیں ۔
میرے چاروں طرف اندھیرا ہے
بس یہاں پر ہے روشنی تنہا
اپنی کل کائنات ’’اولیا ‘‘ارتقاء اورعرش کے لئے بھی کیا خوب جذبات رکھتے ہیں
مرا وہ خواب جو تعبیر سے رہا محروم
وہ میرے بیٹے کی آنکھوں میں جگمگاتاہے
شاعرحساس ہوتا ہے اور چھوٹی سی بات کو بھی محسوس کرتا ہے لیکن یہاں تو بہت بڑے مسئلے کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے ۔ظہور چوہان فضا ئی آلودگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں درختوں کی کتنی اہمیت ہے ۔آہ اب درخت نہیں رہے ۔اس افسوس کا یوں اظہار کرتے ہیں :
نہ اب پہاڑ نہ جنگل فقط عمارتیں ہیں
مرا مکاں یہیں تھا میاں !درختوں کا
ظہور چوہان کہتے ہیں کے غزل جمود کا شکار رہی ہے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا کلام پیش کرکے اس جمود توڑ اہے اس کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں :
غزل جمود کا یکسر شکار لگتی ہے
سنا یہ میں نے تو اپنا کلام پیش کیا
ظہور چوہان خود کو میر،غالب اور اقبال کا مقلد کہتے ہیں اور اس سلسلے میں بڑی ریاضت کی ہے ۔بے شک ظہور چوہان سلسلہ میر ،غالب اور اقبال کو رواں رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کی شاعری میں میر جیسا سوزوگذاز نہیں ملتا :
جو حاصل ہی نہ ہو نا ہو ،اُسے حاصل نہیں کرتا
میں اپنی زندگی اب بے وجہ مشکل نہیں کرتا
ظہور چوہان مزید کہتے ہیں کہ میں بھرتی پوری کرنے کے لیے زبردستی کے اشعار نہیں کہتا جس کے لیے یہ شعر دیکھئے:
مجھے خدا نے وہ دستِ ہنر دیا ہے کہ میں
ہر ایک لفظ ستارہ بنانے والاہوں
’’روشنی دونوں طرف ‘‘بلاشہ ظہور چوہان کی عمدہ اور شاہکارکتاب ہے جسے پڑھنے کے بعد آپ کے فن ،تکنیک ،اسلوب ،زبان وبیان کا خوب پتاچلتا ہے ۔ظہور چوہان اُردو شاعری میں ایک مقام و مرتبہ پر فائز نظر آتے ہیں ۔اُمید کرتا ہوں کے آپ کا قلم یونہی اچھے شعر نکالتارہے گا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved