تازہ ترین  

تارے زمین پر۔۔اور ناصر محمود بیگ
    |     3 months ago     |    گوشہ ادب
 تارے زمین پر۔۔۔ناصر محمود بیگ نے ترتیب و تالیف کی ہے۔ناصر محمود بیگ شبعہ تدریس سے وابستہ ہیں۔یوں میری محبت ناصر محمود بیگ سے اور بھی بڑ ھ جاتی ہے کیونکہ میں اساتذہ پر جان نثار کرنے والا شخص ہوں۔
تارے زمین پر۔۔اختر سردار چوہدری کے توسط سے مجھ تک بڑی مشکل سے پہنچی ہے۔کورئیر والے بڑے ذلیل و خوار کرتے ہیں البتہ ڈاک خانے کا نظام آج بھی بہتر ہے۔کتاب کا سر ورق دیدہ زیب اور شاندار ہے۔اس کا مقدمہ سعید الرحمن صاحب نے لکھا ہے۔آپ پرنٹ میڈیا اور مغربی ٹیکنالوجی کو الزام دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اِنہوں نے بچوں کے قلوب و اذہان کو بگاڑا ہے اور اِنہیں بزرگوں کے پاس بیٹھ کر اسلاف کے قصے کہانیوں سننے،عالی شان اوقات اور فرصت کوختم کر دیا ہے۔مجھے اِن سے اختلاف ہے۔میں سمجھتا ہوں ایسا ہر گزنہیں ہے۔ہر چیز کے دو پہلوہوتے ہیں۔منفی اور مثبت۔یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ خود کو کس طرف لے کر جاتے ہیں۔آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی رکھیں اور اُن کے اُٹھنے بیٹھنے پر توجہ دیں تو یہ گلہ نہیں رہے گا۔خود کو سُدھارے کی بجائے کسی دوسرے کو الزام دے کر خود بری الذمہ نہیں ہونا چاہیے۔دوسری بات ان کے قول کی یہاں نفی بھی ہورہی ہے کہ ”پرنٹ میڈیا“نے بچوں کے قلوب اور اذہان کو بگاڑا ہے تو تارے زمین پر۔۔۔بھی پرنٹ میڈیا ہی کی بدولت ہم تک پہنچی ہے اور آپ کے الفاظ بھی پرنٹ میڈیا ہی کی بدولت دوسروں تک پہنچ رہے ہیں۔
ناصر محمود بیگ نے ”حرف آغاز“میں اسلاف کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد،ان کے پانچ اوصاف نمایاں ہمیں بتائے ہیں۔پختہ ایمان اور عقید ہ توحید والے،علم وحکمت کے طلب گار،باعمل اور باکردار،اللہ کی طرف بلانے والے،اللہ کے راستے میں لڑنے والے۔ہماری زندگیوں کا رول ماڈل یہی اسلاف ہونے چاہییں۔
تارے زمین پر۔۔۔کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا شمع توحید کے پروانے کے نام سے ہے جس میں ”اور آگ ٹھنڈی ہو گئی“عنوان میں ناصر محمود بیگ لکھتے ہیں بالآخر تین ماہ بعد امیلہ اور آزراپنے بچے کو شہر میں اپنے پاس لے آئے۔یہ بچہ اتنی سمجھداری کی باتیں کرنے لگا کہ سب حیران ہو گئے۔پہلاسوال تو یہ ہے کہ تین ماہ کا بچہ کیسے بول سکتا ہے،دوسرا اس کا کوئی حوالہ درج نہیں کیا گیا،تیسرا اس میں کمپوزنگ کی بہت غلطیاں ہیں۔
”لوگ آسان سمجھتے ہیں“حوالہ تفسیر سورۃ بُرج صحیح اسلامی واقعات ہے”جو بیماروں کو اللہ کے حکم سے شفا دیتا تھا اُس کا نام نہیں لکھا گیا اور جس بچہ کا نام امام احمد حنبل ؒنے اپنی کتاب مسند احمدمیں بیان کیا ہے اُس کا نام کیا تھا،یہ بچہ کس قوم سے تھا۔
صبر و استقامت کی داستان“میں لفظی غلطیوں کی بھر مار ہے جیسے ”لمبی عمروعطا کی،مظالم کی رودرارسنانے لگے،ان کے کیپڑے وغیرہ۔”آتش پرستی سے توحید پرستی تک“اس میں واقعہ پیش کیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے درخت لگائے اور برکت کی دُعا کی،اللہ کی مدد ہوئی اور ایک ہی سال میں پودے پھل لے آئے،یہاں ایک سال کا عرصہ لکھا گیا ہے جبکہ میں نے پڑھا ہے کہ ایک ہی رات میں کھجور کے درخت لگائے گئے اور وہ صبح کو پھل دار باغ بن چکا تھا۔
باب دوئم:حکمت کے ستارے،سب سے بہتر کون،جس نے سبق یاد کیا،دربار رسالت کا لکھاری،سبق پڑھ صداقت کا،ذہانت کا استعمال کیسا،بخارا کا ننھا محدث،کتابیں اپنے آباء کی،کے عنوانات سے بہت خوب اور شاندار مضمون لکھے گئے ہیں۔اقبال کیسے بنتا ہے،بہترین اقبال کی سوانح عمری ہے،ایک عظیم سائنسدان کی کہانی جیسے تمام مضامین جاندار،مدلل اور حوالہ جات کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہوئے شاندار لکھے گئے ہیں۔
باب سوئم:”کردار کے انمول موتی“ میں دوسرے شعر کے شاعر کا نام نہیں لکھا گیا جو کہ علامہ محمد اقبال ؒ کا ہے۔”امن کے پیامبرؐ “خوبصورت تاریخ کے جھروکوں سے لکھا گیا مضمون ہے۔”فرمانبرداری ہو تو ایسی“حضرت اسماعیل ؑ اور اماں ہاجرہ کا قصہ بیان کیا گیا ہے جب حضرت اسماعیل ؑ قربان ہونے لگے اُس وقت آپ کی عمر مبارک کیا تھی؟نہیں بتایا گیا اور قصص الانبیاء کا حوالہ ضرور دیا گیا ہے۔شعر کے ساتھ شاعر کا نام نہیں لکھا گیا جو کہ علامہ محمد اقبال ؒکا ہے۔
جب آئی بدلے کی گھڑی“آخری جملہ کمال کا ہے ”کسی سے انتقام لینا ہو تو اُسے معاف کر دیا جائے،یہی بہترین انتقام ہے۔“”خاندان نبوت کا شہزادہ،بہترین مضمون ہے جس کا جملہ ہے ”خون خرابے سے بچنے کے لیے اپنا حق بھی قربان کر دینا چاہیے“بہت پیاری بات کہی گئی ہے۔”یہ صالح مرد“جدا ہو دین سیاست سے“اس مضمون میں جو واقعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز سے منسوب کیا گیا یہی واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منسوب ہے۔یہاں تو آپ کی نسل میں سے عمر بن العزیز سے ہے جس کا حوالہ Muslim Heroesدیا گیا ہے۔تاریخ کے اوراق میں گڑ بڑ ضرور ہے،حقیت کیا ہے اللہ جانے۔۔کہیں دریائے فرات کے کنارے کتے کا ذکر ہے تو کہیں بکری کا۔
باب چہارم:”دین حق کے داعی“نور ہدایت کی پہلی کرن،باغ نبوتؐ کا پھول،دیں اذانیں ہم نے،غم نہ کر،آؤ چراغ محبت جلائیں“اعلی اور شاندرا مضامین ہیں۔آخر الذکر مضمون روزنامہ دُنیا کے ڈائجسٹ پیج سے ماخوذ ہے۔باب پنجم کو باب چہارم دوبارہ لکھا گیا ہے ”اللہ کے بے باک سپاہی“میں۔۔ابوجہل کہاں ہے۔یہ الفاظ پڑھتے ہی جسم کے بال کھڑے ہو گئے۔۔کیا جذبہ ایمانی تھا،قربان کیوں نہ جاؤں ان ننھے مجاہدوں پر۔
اے جنگل کے درندو“بھی اچھا مضمون ہے۔شیر کی ایک دن کی زندگی“اس مضمون میں نہیں بتایا گیا کہ میر جعفر کون تھا۔جہاں بھی منافقت کے بارے میں پڑھا ہے وہاں میر جعفر اور میر صادق کا حوالہ ضرور ملا ہے۔لیکن یہاں پر میر صادق اور میر معین الدین غداروں کا سامنا رہا کہا گیا ہے۔
تُو شاہین ہے“قوم کے بہادر سپوت ایم ایم عالم کے حوالے سے بہترین مدلل اور شاندار مضمون قلم بند کیا گیا ہے۔”اندلس کی غیور شہزادی“اس کہانی میں ”امینہ“شہزادی کی کہانی نامکمل رہ گئی،اُس کا کیا بنا۔۔۔بہتر ہوتا اُس کے متعلق مکمل بتایا جاتا اور یہاں حوالہ کتب بھی نہیں دیا گیا۔”شیر شاہ سوری کے کارنامے“شیر شاہ سوری نے ملتان سے دہلی تک سڑک تعمیر کرائی تھی،ملتان کا دہلی گیٹ آج بھی اس کی یاد دلاتا ہے۔یہاں لاہور سے راولپنڈی،اسلام اور پشاور تک جی ٹی روڈ کا ذکر کیا گیا ہے۔البتہ تاریخ میں جی ٹی روڈ کا حوالہ کہیں نہیں ملتا۔”یہ تیرا ہی نہیں،اُمت کا بیٹا ہے“سلطان صلاح الدین کے حوالے سے بہترین مضمون ہے۔”بُت شکن ہوں بُت فروش نہیں“سلطان محمود غزنوی کے حوالے سے ہے۔آپ کی وفات کیسے ہوئی؟یہ نہیں بتایا گیا۔حرف آخر میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ہیروز ہی وہ انعام یافتہ لوگ ہیں جن کے راستے کو صراطِ مستقیم کہا گیا ہے۔
تارے زمین پر۔۔۔کے عنوان سے ناصر بیگ نے ہمارے ہیروز کی کہانیاں اختصارسے پیش کی ہیں۔یقینا بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک لاجواب تحفہ ہے۔جس سے ہر مومن کو استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔میں ناصر محمود بیگ صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اُنہوں نے بہترین اور اُچھوتا کام کیا ہے جس کا رب رحمان ضرور اجر و ثواب عطا فرمائیں گے۔تارے زمین پر۔۔۔ناصر محمود بیگ کے لیے ذریعہ نجات بن جائے آمین!
آج کے دور جدید میں بھی یہی رونا روتے لوگ ملتے ہیں کہ کتاب کا زمانہ نہیں رہا،کتاب کوئی نہیں پڑھتا اُن کو مشورہ دوں گا کہ اپنے مشاہدے کا دائرہ کار وسیع کریں۔کتاب پڑھنے والے آج بھی موجود ہیں۔کتب شائع ہورہی ہیں اور پڑھی بھی جا رہی ہے البتہ نوجوان نسل کتب بینی سے دُور ہوتی جا رہی ہے ہمیں اس سلسلے میں تگ ودو کرکے اُنہیں اس طرف راغب کرنا ہوگا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved