تازہ ترین  

بابائے براہوئی نورمحمد پروانہ کی ادبی خدمات پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد
    |     3 months ago     |    گوشہ ادب
اس حقیقت سے کوئی بھی ذی شعورشخص انکارنہیں کر سکتاکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے یہ اس دنیا میں موجود ہر شخص کو موت کی وادی میں اتارکرہی چھوڑدیتی ہے مگراس دنیامیں کچھ محترم شخصیات ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں موت اپنی آغوش میں لینےکےباوجودبھی انکا نام رہتی دنیا تک آسمان علم وادب پرایک درخشندہ ستارے کی مانندروشن رہتے ہیں.
اوستا محمدبلوچستان کاتیسرا اورذراعت کا سب سے بڑاصنعتی شہرہونےکےعلاوہ علمی,ادبی اور تاریخی اعتبارسے بھی بہت اہمیت کا حامل رہا ہے اس شہرمیں بہت سے سیاسی,سماجی ,علمی اور ادبی شخصیات کی عمدہ فکرنےاس شہرکا نام پورے پاکستان میں روشن کردیا ان میں ایک نام براہوئی زبان وادب کو زندہ وجاویداں کرنے والےبابائے براہوئی نورمحمد پروانہ کا بھی ہے.
بابائےبراہوئی نورمحمدپروانہ کی سویں سالگرہ کے موقع پرانہیں خراج عقیدت پیش کرنےکےلیئے 24 دسمبر 2018 کوان کےآبائی شہراوستامحمدپریس کلب کے کانفرنس ہال میں ایک روزہ سیمیناربعنوان"صدسالہ تقریب بابائےبراہوئی نورمحمدپروانہ"منعقدہوا.اس سیمینارمیں سندھ وبلوچستان کےنامورمفکرین اوردانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کرکے بابائے براہوئی نور محمد پروانہ کوبھرپورانداز میں خراج عقیدت پیش کیا.
اس سیمینارکا باقاعدہ آغازتلاوت کلام پاک سے کیاگیاصدارت معروف ادیب کئی کتابوں کےصنف براہوئی اکیڈمی پاکستان کےمرکزی جنرل سیکریٹری ماہرتعلیم پروفیسرسوسن براہوئی نے کی
مہمان خاص اوستامحمدکے معروف ومعتبرشخصیت سردامحمدجان پندرانی اوراعزازی مہمانوں میں براہوئی ادبی سوسائٹی کوئٹہ کے چیئرمین عبدالقیوم بیدار,ریڈیوپاکستان خضدارکے اسٹیشن ڈائریکٹرسلطان احمدشاہوانی,سندھی اوربراہوئی زبان کے ناموراسکالرماہرلسانیات مصنف ڈاکٹرنزیرشاکربراہوئی اورسماجی رانماسکندر براہوئی تھے.
براہوئی اکیڈمی اوستامحمد (برانچ)کے صدر علی گل پندرانی نےسیمینارمیں شرکت کرنے والے تمام قلمکاروں کو خوش آمدیدکہتے ہوئے انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا.
سیمینارمیں بابائے براہوئی نورمحمدپروانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پروفیسرانجم براہوئی,ہفت روزہ ایلم کے چیف ایڈیٹر محمدعظیم ذاکربراہوئی, منظوراحمدپندرانی,ملک ریاض بلوچ,پروفیسرحفیظ سرپرہ, میرعلی شیرنازبراہوئی,مولانا محمدصدیق اورحاجی عبدالحیات منصورنے اپنے اپنے خطابات میں کہا کہ بابائے براہوئی نورمحمدپروانہ ایک ہمہ جہت شخصیت اور ایک عظیم مفکر تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی براہوئی زبان وادب کے لیئے وقف کردی تھی انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے براہوئی زبان و ادب کو پوری دنیامیں روشناس کروایاانہوں نے کہا کہ بابائے براہوئی نورمحمدپروانہ کی کی براہوئی صحافت کوپروان چڑھانے میں بھی اہم کردار رہاہے انکی سچی لگن اورمحنت کی وجہ سے ہفت روزہ ایلم کے علاوہ آج پورے بلوچستان سے براہوئی زبان میں کئی اخبارات و جرائد شائع ہو رہے ہیں سیمینار سے ڈاکٹرنزیرشاکربراہوئی, سکندربراہوئی ودیگر مقالہ نگاروں نے بھی اپنے اپنے مقالات میں بابائے براہوئی کی علمی,ادبی اورصحافتی زندگی پرپُرمغزروشنی ڈالی.
اس سیمینارمیں بابائے براہوئی نورمحمدپروانہ کی فن و شخصیت پر شائع ہونے والے کتابوں کے مصنفین کو براہوئی اکیڈمی پاکستان کی جانب سے ایوارڈز سے نوازا گیاجن میں "پروانہ پائک" عبدالقیوم بیدار,"برمش" زاہدبراہوئی,"بابائے براہوئی وایلم" حاجی عبدالحیات منصور,"توت ئنا سیخا" میر علی شیر نازبراہوئی,"خطبات پروانہ"گلزارآثم براہوئی, "بابائے براہوئی واونا پروانہ غاک"میرعلی شیرنازبراہوئی
,ماہنامہ "استار"ماہنامہ "مہر"ہفت روزہ "ایلم" شامل ہیں.
صدرمجلس پروفیسرسوسن براہوئی نے بابائے براہوئی کی ادبی زندگی پر روشن ڈالتے ہوئے کہا کہ بابائے نور محمد پروانہ کا شمار پاکستان کے اعلی دانشوروں اور مفکرین میں ہوتا ہے انکی دانشورانہ سوچ و فکرنے براہوئی زبان و ادب کو ترقی یافتہ زبانوں کے ساتھ لاکرکھڑاکردیاانہوں نے کہا کہ بابائے براہوئی نورمحمد پروانہ علم وادب کے گہرے سمندر کی حیثیت رکھنے والے بہترین انسان تھے ان جیسے عظیم لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں.
مہمان خاص سردارمحمد جان پندرانی نے کہا کہ بابائے نورمحمد پروانہ براہوئی زبان وادب کے لیئے عظیم سرمایہ,محقق,دانشوراوراعلی پایہ کے صحافی بھی تھے انکی پوری زندگی کھلی کتاب کی مانند تھی اسلیئے انکی فکری خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائےگا.
سیمینار کے پہلی نشست کے اختتام پربراہوئی اکیڈمی استامحمد,ڈیرہ مرادجمالی اور مستونگ (برانچ) کے عہدیداروں ک شیلڈز سے نوازا گیا.
ظہرکی نمازاورکھانے کے وقفے کے بعد محفل مشاعرہ کی دوسری نشست 3 بجے شروع ہوئی جسمیں سندھ و بلوچستان کے شعراءاکرام نے اپنااپناکلام پیش کرکے خوب دادسمیٹی.اس نشست کی میزبانی کے فرائض نوجوان شاعررحیم صیاد نے اداکیئے. صدارت بزرگ شاعر عبدالکریم عابدنے کی مہمانوں میں حاجی عبدالحیات منصور,گل میرگل,شہزادہ قاسم,بشیراحمدشاد,مرادصابر, عطاءانجم اور رفیق شامل تھےاس کے دیگر شعراءاکرام میں وحید تبسم,ملک ریاض بلوچ,شجاعت سحرجمالی,صاحب خان جمالی,نورپرکانی,بدل ناز,محبت زہیراورزاکرزیب کے علاوہ دیگرشامل تھے.





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved