تازہ ترین  

گرم انڈے سے گندے انڈے تک
    |     4 weeks ago     |    طنزومزاح
اپنے ہی گھر کی بیل بجا کر منتظر تھا کہ ابھی میرا بیٹا اسما عیل گیٹ کھولنے سے قبل بآواز بلند پوچھے گا کہ کون؟کہ اتنے میں گلی کی نکڑ سے بہت ہی مترنم مگرپرسوز صدا میری سماعتوں سے ٹکرائی کہ ’’آ۔۔نڈے۔۔۔گرم آ۔۔۔نڈے‘‘بچے کی آواز کی سماعت مجھے پردہ تخیل میں بھٹو کے اس بیان کی باز گشت سنائی دی کہ مجھے معلوم ہے میری پارٹی میں کچھ گندے انڈے بھی موجود میں جنہیں میں اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے نکال باہر کرونگا۔بھٹو کا یہ بیان اس لئے سنا سنایا محسوس ہوا کہ قیام پاکستان کے فورا بعد جب محمد علی جناح سے سیاسی ٹیم کے حوالہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا کہ’’مجھے معلوم ہے کہ میری پارٹی میں کچھ کھوٹے سکے بھی موجود ہیں‘‘قائد اعظم کی حیات ان سے وفا نہ کر پائی جس کی وجہ سے وہ تمام کھوٹے سکے پارٹی میں موجود رہے۔ایسے ہی کچھ سکے جو بھٹو دور میں گندے انڈے بن چکے تھے انہی سکوں اور انڈوں کے ہاتھوں بھٹو جیسا سیاسی شاطر بلیک میل ہوتے ہوتے تختہ دار پر لٹک گیا،مگر سکے اور انڈے موجود رہے۔اگر جناح اور بھٹو بروقت کھوٹے سکوں اور گندے انڈوں کو نکال باہر کرتے تو آج کھوٹے سکے’’مکمل بینک‘‘اور گندے انڈے’’کرپشن ہیچری‘‘ نہ بنے ہوتے۔
وزیر اعظم پاکستان کے مرغیوں ،انڈوں اور کٹًوں کے بارے میں بیان سے مرے ذہن میں دو لطائف نے کچوکے بھرنے شروع کر دیے،جن میں سے ایک کا تعلق پاگل اور دوسرے کا شیخ چلی سے ہے۔ایک پاگل دوسرے پاگل سے کہتا ہے کہ تم اگر بتا دو کہ میری جھولی میں کیا ہے تو سارے انڈے تمہارے ہوئے ،اب سامنے والا بھی مہا پاگل ٹھہرا ،سوچ میں پڑ کر کہنے لگا کہ یار تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ اتنے مشکل سوال نہ کیا کرو۔۔۔دوسرا لطیفہ مشہور زمانہ شیخ چلی کا ہے کہ جس نے ایک انڈہ اپنے ہی پاؤں کے پاس رکھ کر یہ سوچتے ہوئے اپنے ہی پاؤں کی ٹھوکر سے توڑ دیا کہ اس انڈے سے مرغی پیدا ہوگی،اس کے مزید انڈوں سے مزید مرغیاں ،اور یوں اس کی آمدنی اور بچت میں اضافہ ہوگا ،بچت سے وہ شادی کرے گا ،شادی کے بعد بچے پیدا ہونگے اور بچے جب سکول جاتے ہوئے پیسے مانگیں گے تو انہیں پاؤں کی ٹھوکر سے مار بھگاؤں گا،اس طرح شیخ چلی اپنے ہی پاؤں کی ٹھوکر سے وہ انڈہ توڑ بیٹھتا ہے جس سے مرغی نکال کر وہ خیالوں کا محل استوار کر رہا تھا۔۔۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمارے وزیر اعظم پاگل یا شیخ چلی ہیں،ہاں مگر’’ اشرافیہ‘‘ کے رد عمل سے یہ ضرور نتیجہ میرے سامنے آیا ہے کہ ہماری سوئی ہوئی قوم کو عام مرغی سے انڈے نہیں بلکہ سونے کے انڈے درکار ہیں۔ویسے وزیر اعظم کے بیان کے بعد جتنا مرغیوں اور انڈوں کو ذلیل و رسوا کیا گیااور مذاق اڑایا گیا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں مرغیاں ان بیانات کے رد عمل میں احتجاجاً انڈے دینے سے انکاری ہی نہ ہو جائیں۔مرغیاں ایسا کریں نہ کریں لیکن مجھے یقین ہے کہ میری قوم نے جتنے انڈوں کو جمع تفریق کر کے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دیا ہے مرغے اس بات پہ مرغیوں سے ضرور باہم مشورہ میں ہونگے کہ دیکھو عوام کی باتوں پر دھیان نہ دینا تم سے جتنے انڈے بن پڑتے ہیں تم حسبِ استطاعت اتنے ہی پہ اکتفا کرنا وگرنہ تمہارا ’’فگر‘‘بھی تباہ و برباد ہو سکتا ہے جو مجھے کسی طور گوارہ نہیں ہے۔بلکہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ،کہ میری مرغہ برادری میں کیا ناک رہ جائے گی جب سب بیک زبان کہہ رہے ہونگے کہ تمہاری مرغی کا تو ’’فگر‘‘ اب out of figure ہو گیا ہے۔ یا اب ’’zero figure ‘‘سے 100 ہو گیا ہے۔دیکھو نا مرغی جانم اب ان سیاستدانوں کی من مانیوں کے لئے تم اپنا فگر تو خراب نہیں کر سکتی نا؟۔۔۔آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ مرغ ،مرغی اور مولوی ایک ایسی تثلیث ہے جس کا ہر کونہ کونہ ثانی کامرہون منت ہے۔یعنی مرغ بغیر مرغی بے معنی اور مولوی بغیر مرغ ادھورا ادھورا۔مولانا صاحب تو مرغ مسلم پر ’’ختم‘‘دیتے وقت بھی اسے پلیٹ کو ایسی اوچھی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے مرغی دیکھ کر مرغا ’’لمحہ مخصوص‘‘میں ناچتا اور ’’پیلیں‘‘ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔مذکور دونوں میں ایک اور قدرِ مشترک یہ بھی ہے کہ صبح تڑکے دونوں ہی اٹھ کر اذان دیتے ہیں۔اب تو خیر زمانہ ترقی کر گیا ہے ٹائم پیس سے اب تو دیہاتی بھی موبائل فون پہ منتقل ہو گئے ہیں مگر پچھلے زمانوں میں لوگ مرغ اور مولوی کو صرف اس لئے رکھتے تھے کہ پو پھٹنے سے قبل انہیں اٹھائے گا کون؟مرغ اور مولوی پہ ازمنہ قدیم سے ہی لوگوں کا اعتقاد راسخ ہے کہ اگر مذکور دونوں شب نصف بھی صدا لگا دیں تو سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف عمل ہو جائیں گے کہ صبح ہو چکی ہے،مرغوں کا تو پتہ نہیں مولانا حضرات کئی بار عشق زمانہ یا’’ زنانہ‘‘ کے چکر میں اذان قبل از وقت دے کر ضرور شب نصف میں نصف النہار کے مزے لوٹنے کے چکر میں رفو چکر ہو گئے ہوتے ہیں۔ویسے یہ بات طے شدہ ہے کہ جیسے مرغی کے انڈے کی اصل جگہ پلیٹ ہوتی ہے ایسے ہی مرغ کا اصل مقام مولانا کا پیٹ ہوتا ہے۔مزید برآں اگر آپ کو کبھی غور کرنے کا موقع ملا ہو تو مشاہدہ کیجئے گا کہ مرغ کا گلہ اور مولانا کے پیٹ کی وجہ مماثلت دونوں کا استطاعت سے کئی گنا بڑا ہونا ہے،بلکہ مرغ کا کئی گنا اور مولانا کا کئی’’ گناہ‘‘ بڑا پیٹ ہونا ہے۔ مرغ اپنے منہنی سے گلے سے کئی گنا زیادہ آواز نکال کر پورے گاؤں کی سحر خیزی کا باعث بنتا ہے جبکہ مولانا صاحب اسی مرغے کی خاطر اپنی استطاعت سے کہیں بڑھ کر اپنی توند بڑھانے کی پریکٹس کرتا ہے کہ جس پیٹ میں چند بوٹیوں کی گنجائش ہوتی ہے محض اس مرغ مسلم کی خاطر فٹ بھر کو مرلہ بھر کر لیتا ہے،اسی لئے مولانا صاحب پیچھے سے کمر کم کمرہ زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔اور جب مرغ خوری فرما چکے ہوں تو ایسی حالت میں ان کی نہ آنکھیں کام کرتی ہیں نہ ذہن۔بلکہ مرغ مسلم ڈکارنے کے بعد تو پاؤں بھر چلنے کے لئے بھی پاؤں کام نہیں کرتے۔شائد اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ مرغ،مولوی اور پولیس کے رزق کی فکر خدا بھی نہیں کرتا کہ یہ اپنی دنیا آپ پید اکرنے کی صلاحیت سے ’’مالا مال‘‘ہیں۔
اگر آپ قدرت کے کمالات کو بنظر عمیق دیکھیں تو آپکو پتہ چلے گا کہ قدرت نے ہر چیز کو کمال بنایا ہے۔ذرا مرغی کو ہی لے لیجئے کہ اگر مرغی انڈہ نہ دیتی تو ملک کی آدھی شادی شدہ عورتیں شادی کے پہلے سال ہی بیوہ ہو جاتیں ،کہ انڈہ بنانا اور مرد کو بے وقوف بنا نا اتنا آسان ہے کہ جسے ہر شادی شدہ عورت جب چاہے جیسے چاہیں بنا لیں۔ناشتہ کی میز پر اسی انڈے کی وجہ سے 90 فیصد مرد بے وقوف بنتے ہیں،جب ناشتہ کے وقت انڈہ دیکھتے ہی خاوند کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر ہی بیوی پیار بھرے لہجے میں پکار اٹھتی ہے کہ جانو کیا ہوا آج تو میں نے آپ کی مرضی کا ہاف فرائی بنایا ہے،جبکہ انڈہ مکمل برشت شدہ ہوتا ہے۔یعنی مکمل جلا ہوا،ابھی خاوند حالت غصہ میں پلیٹ کو ہاتھ لگاتا ہی ہے کہ بیوی ایک بار پھر شیریں لہجہ میں گویاہوتی ہے کہ اوہ جا نم آج مجھ سے انڈہ ذرا زیادہ تلا گیا،(انڈے کی حالت دیکھ کر حالانکہ خاوند کا تلملانا بننا از بس ضروری ہوتا ہے)۔اوہ سوری کل سے میں آپ کے لئے میٹھا یا خاگینہ بنا دونگی،اوہ خاگینہ سے یاد آیا کہ گھر میں قیمہ اور پیاز بھی ختم ہیں ،دفتر واپسی پہ انڈوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی لیتے آئیے گا۔انڈے کبھی ضائع نہیں ہوتے،صحیح ہوں تو پلیٹ میں،نیم گندے ہوں تو بیکری اور ہوٹل کے باورچی خانوں میں اور اگر بالکل گندے ہوں تو ٹماٹر کے کمبینیشن کے ساتھ سیاسی پلیٹ فارم یا سیاسی جلسوں میں کام آ ہی جاتے ہیں۔پھر بھی بچ جائیں تو انہیں دفینہ خاک کر کے زرخیزی زمین کا باعث بنایا جا سکتا ہے،گویا انسانوں سے تو بہتر یہ گندے انڈے ہی ہو گئے جو اپنی ہستی مٹا کر دوسروں کی ہستی کو نمو بخشتے ہیں۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved