تازہ ترین  

ماسٹر خلیق احمد خلیق حفظہ اللہ
    |     9 months ago     |    تعارف / انٹرویو

تحریر: معاذ عتیق راز

علم اور عمل ان کا خاصہ اور صالحیت و صداقت انکی زندگی کا جز' شائستگی اور شگفتگی کا پیکر، صوم و صلوة کے پابند'  درمیانہ قد، چست اور مستعد بدن، فراخ پیشانی'  گھنی سیاہ اور سفید داڑھی!

جی ہاں! یہ ہیں ہمارے ممتاز' بے مثل' منفرد' ماہر تعلیم، اور گجر خانوادے کے چشم و چراغ ماسٹر خلیق احمد خلیق حفظہ اللہ تعالی.
سابق انچارج ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کنگر

وہ تحصیل گوجرخان یو سی تھاتھی کے قصبہ مندھال ڈھوک گجراں کے غریب گھرانے میں پیدا ہوئے.  غربت کے دنوں، دیہات کی زندگی، محنت ومشقت کے لمحات اور زندگی کے دکھ دردجھیلنے کے باوجود فقط اللہ رب العزت کے فضل سے نہ غربت، افلاس اور تنگ دامانی کے مہیب سمندر  اس کو غرق کر سکے. نہ احتیاج، بے بسی اور بے چارگی کے عمیق گڑھے ان کا راستہ روک سکے.

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تھاتھی سے حاصل کی جبکہ مڈل گورنمنٹ ہائی سکول کنگر اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول پنڈوڑی جبر سے کیا.

اس کے بعد ملازمت کا آغاز بطور UT
(24-09-1983) کو گورنمنٹ ہائی سکول پنڈوڑی جبر سے کیا. 15 سال وہاں کام کرنے کے بعد ہائی سکول تھاتھی میں تقریبا 11 سال اپنی ڈیوٹی سر انجام دی.
سروس کے آخری حصے اکتوبر 2009  سے دسمبر 2018 تک تقریبا 9 سال گورنمنٹ ہائی سکول کنگر میں اپنے فرائض سر انجام دیے.

آپ نے دورانِ ملازمت اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ( PTC' FA' CT'  BA' B.ED' MA اور M.ED) کی تعلیم بھی حاصل کی.

اس میدان میں انہوں نے اپنی ان تھک محنت سے بہت سے کارہائے نمایاں سر انجام دیے.  جن میں کچھ مندرجہ ذیل ہیں.

پرائمری سکول پنڈوڑی جبر موجودہ ہائی سکول پنڈوڑی جبر سائیکل پر جاکر اسمبلی کراتے رہے.

گورنمنٹ ہائی سکول تھاتھی میں گیارہ سال نائٹ کلاس چلا کر شاندار رزلٹ دیا. 

گورنمنٹ ہائی سکول کنگر جس کی حالت قابل رحم تھی اللہ تعالی کے فضل و کرم سے انہوں نے اپنی بہترین ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے نو سالوں میں اوسط نوے فیصد نتائج دیئے اور طلباء کی تعداد 172 سے 310 تک پہنچائی.

جب ان کو پہلی میٹرک کی کلاس دی گئی تو اس میں 12 طلباء تھے. پہلی بار ہی رزلٹ 75 فیصد رہا. یہ رزلٹ اس وقت  سابقہ نتائج کے لحاظ سے شاندار کارنامہ تھا. اس آخری  سال  میٹرک کلاس میں طلباء کی تعداد 52 تھی اور رزلٹ 94 فیصد رہا ہے.

اس وقت اس سکول کو یو سی تھاتھی اور یو سی جبر میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے.

تعمیری لحاظ سے بھی انہوں نے سکول میں اہم تبدیلیاں کیں.
تدریس کے آخری ایام میں  بیسٹ وے اور پبلک کے تعاون سے 2 کلاس روم جن کی لاگت تقریبا پندرہ لاکھ ہے ان پر کام شروع کروا دیا. اس کے علاوہ عمدہ بلڈنگ' باغیچہ' گراؤنڈ 'جھولے اور شاندار اسمبلی ہال ان کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے.

انہوں نے کہا ہے کہ "آج میں جو کچھ بھی ہوں یہ سب اللہ تعالی کے فضل و کرم ' ماں باپ کی دعاؤں' فیملی کی بھرپور مدد اور کنگر سکول سٹاف کی بہترین ٹیم کی محنت اور بھرپور تعاون کا نتیجہ ہے."

1983 ہائی سکول پنڈوڑی جبر سے درس و تدریس کا شروع کیا گیا 35 سالہ سفر آج  2018 کو ہائی سکول کنگر میں ختم ہو رہا ہے.

ماسٹر صاحب کی ٹیم کے دو  انتہائی محنتی ' اپنے کام اور سکول سے محبت ' وقت کی پابندی کرنے والے'  انتہائی ملنسار' خوش اخلاق' اور امانت دار ارکان خورشید احمد (چوکیدار)  اور محمد ایوب ولد نواب خان( مالی) تھے. یہ دونوں احباب بھی  34 سال اسی سکول میں سروس کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں. ان کی سکول کے لیے کی گئی خدمات اور کوششیں قابلِ تحسین ہیں. جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی.

اپنے ان عظیم محسنوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور خدمات کا شکریہ ادا کرنے کے لیے
گورنمنٹ ہائی سکول کنگر میں(22 دسمبر  بروز ہفتہ) الوداعی پارٹی اور واپسی پر ڈھوک گجراں مندھال میں شاندار استقبال کیا جائے گا.






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved