تازہ ترین  

رسول اللہ ﷺ بحیثیت خطیب
    |     9 months ago     |    اسلامی و سبق آموز

آپ ﷺ کااندازِ خطابت:

عربی معاشرے میںخطابت بہت بڑا وصف سمجھا جاتا تھا۔ بحیثیت مجموعی اہل عرب کی خطابت مسلم تھی، اسی بنا پر وہ غیر عربی اقوام کو عجمی (گونگا) کہتے تھے۔ آنحضور ﷺ اُمّی تھے،مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تقریر و خطابت کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ بچپن میں آپ ﷺ کی پرورش دائی حلیمہ کے ہاں بدوی ماحول میںہوئی تھی۔حلیمہ، بنو سعد قبیلے سے تھیںاور یہ قبیلہ اپنی فصیح زبان کے سبب عرب میں ممتاز حیثیت کا مالک تھا۔ ایک موقع پر آپﷺ نے فرمایا:
اَنَا اَف±صَحُکُم±، اَنَا مِن± قُرَی±شٍ وَ لِسَانِی± لِسَانُ بَنِی± سَع±دِب±نِ بَک±رٍ
”میںتم سے زیادہ فصیح ہوں، کیونکہ میںقریشی ہوں اور میری زبان بنی سعد بن بکر کی زبان ہے“۔
اس وجہ سے آپ ﷺ کے لہجے میں عربی فصاحت و بلاغت کی بہترین خوبیاںجمع ہو گئی تھیں۔ بحیثیت ایک خطیب، آپ ﷺ کی شخصیت پر نظر ڈالیں توآپﷺ کی خطابت میں بھی ایک انفرادی شان نظر آتی ہے۔
آپ ﷺ کے خطبے کا کوئی مستقل یا مقرر اسلوب نہ تھا۔ آپ زمین پر کھڑے ہو کر یا کسی درخت سے ٹیک لگا کر، یا میدان جنگ میں کمان پر ٹیک لگا کر، یا منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیتے۔ خطبہ دیتے وقت عموماً آپ کے ہاتھ میں ایک عصا ہوتا۔ کبھی کبھی آپ کے ہاتھ میںایک کمان ہوتو آپ اس پر ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔آپ کے اسلوب خطبہ کے بارے میںابن ابی شیبہ کی روایت میںبتایا گیا ہے کہ جمعہ کے دن حضورﷺ منبر پر آتے ہی لوگوں کی طرف منہ کر کے السلام علیکم کہتے۔اے فلاں! بیٹھ جا، اے فلاں! نما ز پڑھ، وغیرہ۔ خطبے سے متعلق سامعین میں سے اگر کوئی شخص سوال کرتا تو اس کا جواب دیتے۔ آ پ ﷺ کے بعض خطبے تو ایسے ہیں کہ جو شروع سے آخر تک سوالات و جوابات پر ہی مشتمل ہیں۔
مدینے میں، ابتدائی دور میںآپ ﷺمسجد نبوی میں کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ روایات میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اب کھڑا رہنا مجھے تکلیف دیتا ہے۔ اس پر حضرت تمیم داری ؓ نے مشورہ دیا کہ ایک منبر بنوا لیا جائے، جیسا کہ ملک شام میں ہوتا ہے۔آپ ﷺ نے دوسرے صحابہ کی رائے معلوم کی تو سب نے اتفاق کیا۔ حضرت عباس ؓ نے کہا: میرا ایک غلام ہے جس کا نام کلاب ہے ،وہ بڑھئی کے کام میں بہت ہوشیار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا،اس سے کہو کہ منبر تیار کر کے لائے۔ چنانچہ وہ جنگل سے لکڑی کاٹ لایا، اس کے تختے تیار کیے اور پھر ان سے منبر بنایا۔ اس کے دو زینے تھے، اس کے بعد تیسری بیٹھنے کی جگہ تھی۔ یہ منبرمسجد نبوی میں لایا گیااور اس جگہ رکھ دیا گیا جہاںآپ ﷺ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے،اور وہ خشک تنا وہاں سے ہٹا کر ایک طرف رکھ دیا گیا۔ آپ ﷺاس منبر پر تشریف فرما ہوئے۔
خطیب بے مثال، داعیِ باکمال، پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سحر آفرین اور دلنشین انداز خطابت اور وعظِ بلیغ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت عرباض بن

ساریہؓ بیان کرتے ہیں:

وَ عَظَنَا رَسُو±لُ اللّٰہِ ﷺ مَو±عِظَةً بَلِی±غَةً ذَرَفَت± مِن±ہَا ال±عُیُو±نُ وَوَجِلَت± مِن±ہَا ال±قُلُو±بُ (ابو داو¿د:۴۶۰۷ وترمذی: ۲۶۷۸)
”آپ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا،جس کی اثر انگیز اور دلپذیری کا یہ عالم تھا کہ سامعین کی آنکھیں اشکبار اور دلوں پہ رقت طاری تھی“۔ مشہور شاعر احمد شوقی کے بقول:
اذا خطبت فللمنابرہزة تعرو النبی و للقلوب بکائ
ایسا کیوں نہ ہوتا؟ اللہ تعالیٰ نے تکمیل انسانیت کے باقی اوصاف کی طرح ملکہ¿ خطابت بھی آپﷺکو بدرجہ¿ اتم عطا فرمایا تھا کیونکہ یہ فرائضِ نبوت کی ادائیگی کے لیے اور پیغام الٰہی کی تبلیغ کے لیے بنیادی وسیلہ اور ذریعہ ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے تکمیل انسانیت اورسعادت دارین کے حصول کے لیے نبی اکرمﷺ کوہمارے لیے اسوہ ونمونہ بنایاہے۔لہٰذاہم خطیب بے مثال اورداعی باکمال نبی مکرم ﷺ کی طرزخطابت کی خوشنماجھلک پیش کرتے ہیں تاکہ ہم ایک خطیب ناجح مقرربارع اورواعظ بلیغ کے اوصاف وصفات سے آگاہ وآشناہوسکیں۔

اچھالباس پہنتے:

سیدناجابرؓ سے روایت ہے کہ :کان للنبی ﷺ بردیلبسافی العیدین والجمعة
”نبی اکرم ﷺ کاایک دھاری دارحلہ تھا، جسے آپ ﷺ عیدین اورجمعہ کے لیے زیب تن فرمایاکرتے تھے“۔(السنن الکبریٰ)
منبرپرچڑھتے توسلام کرتے:
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ :کان ﷺ اذاصعدالمنبرسلم۔”نبی اکرم ﷺ جب خطبہ کے لیے منبرپرتشریف لاتے توفرماتے :السلام علیکم۔(صحیح الجامع الصغیر:۰۴۷۴)
حضرت ثابت ؓ سے مروی ہے کہ :کان اذاقام علی المنبراستقبلہ اصحابہ بوجوھھم۔
”جب آپﷺ منبرپرکھڑے ہوتے تولوگ آپ ﷺ کی طرف رخ کرلیتے ۔(صحیح الجامع الصغیر:۲۶۷۴)

کھڑے ہوکرخطبہ ارشادفرماتے:

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ :ان النبی ﷺ کان یخطب قائمایوم القیامة۔
”آپﷺ جمعہ کاخطبہ کھڑے ہوکرارشادفرماتے تھے۔(مسلم )
آپﷺ منبرپرکھڑے ہوکرخطبہ ارشادفرمایاکرتے تھے اورآپ ﷺ کے منبرکی تین سیڑھیاں تھیں۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ : کان جذع یقوم الیہ النبی ﷺ فلماوضع لہ المنبرسمعناللجذع مثل اصوات العشارحتی نزل النبی ﷺ فوضع یدہ علیہ
”ایک کھجورکاتناتھاجس کے ساتھ ٹیک لگاکرنبی اکرم ﷺ خطبہ ارشادفرمایاکرتے تھے ، جب آپ ﷺ کے لیے منبر بنادیا گیا (اورآپﷺ اس تنے کوچھوڑکرمنبرپرخطبہ دینے لگے)توہم نے اس تنے سے حاملہ اونٹنی کے کراہنے کی مانندرونے کی آوازسنی حتی کہ نبی اکرمﷺ منبرسے نیچے اترے اورآپ ﷺ نے اس پراپنادست مبارک رکھا(اوروہ خاموش ہوا)“۔(بخاری)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں:فصنع لہ منبرلہ درجتان ویقعدعلی الثالثة
”آپ ﷺ کے لیے منبربنایاگیاجس کی دوسیڑھیاں تھیں اورتیسری سیڑھی پرآپﷺ بیٹھاکرتے تھے۔(سنن دارمی)
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:نبی مکرم ﷺ کے منبرمبارک کی تین ہی سیڑھیاں چلی آرہی تھیں حتی کہ حضرت معاویہ ؓ کی خلافت میں مروان بن الحکم نے اس میں اضافہ کیااورچھ سیڑھیاں بنادیں۔(فتح الباری،ج:۲، ص:۹۹۳)

منبرپرچڑھنے کے بعداذان:

آپﷺ سلام کہنے کے بعدمنبرپربیٹھ جاتے اورموذن اذان شروع کرتا۔حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ منبرپربیٹھ جاتے توحضرت بلال ؓ اذان دیاکرتے تھے اورجب خطبہ ختم کرکے منبرسے نیچے اترتے توحضرت بلال ؓ اقامت کہاکرتے تھے اورآپ ﷺ کے بعدحضرت ابوبکرؓ وعمرؓ کے دورمیںبھی ایسے ہی ہوتاتھا۔(صحیح سنن نسائی)

خطبة الحاجة:

امام ابن قیم فرماتے ہیں:لم یکن یخطب النبی ﷺ خطبتہ الاافتتھحابحمدللہ ویستشھدفیھابکلمتی الشھادة ویذکرفیھانفسہ باسمہ العلم
”نبی کریم ﷺ اپناہرخطبہ حمدوثناءسے شروع کرتے اوراس میں شہادتین کاذکرفرماتے اوراپنااسم گرامی محمدﷺ ذکرکرتے تھے“۔(زادالمعاد، ج:۱، ص:۹۸۱)
حمدو ثناءاور شہادتین کے بعد آپ ﷺ فرماتے ”اما بعد“ بعض مفسرین نے ”اما بعد“کو فصل الخطاب کی تفسیر قرار دیا ہے۔
نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں: کان النبی ﷺ یلازمھا یعنی لفظة (اما بعد) فی جمیع خطبہ و ذلک بعد الحمد و الثناءوالتشہد
”نبی اکرم ﷺ اپنے ہر خطبے میں حمد و ثناءاور شہادتین کے بعد (امابعد)ضرور کہتے تھے“۔ (الاجوبة النافعة،ص:۶۵)

خطبہ مسنونہ :

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیںیہ خطبہ (خطبہ¿ مسنونہ) سکھایا۔ (جوکہ ہرخطیب اپنے خطبے کے شروع میں پڑھتاہے ، یہاں طوالت کے پیش نظرصرف اشارہ کیاگیاہے) ۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اس کے بعد فرمایا کرتے تھے:
اما بعد! فÊن خیر الحدیث کتاب اللہ و خیر الہدی ہدی محمد ﷺ و شر الامور محدثاتہا و کل بدعة ضلالة 
نسائی شریف میں ہے (وکل ضلالة فی النار) شیخ البانی نے اس زیادتی کو صحیح قرار دیا ہے۔ (صحیح سنن النسائی:۱۳۳۱)

تحیةالمسجدپڑھنے کاحکم©:

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ جمعہ کاخطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ اس دوران ایک آدمی آیاتوآپﷺ نے فرمایا:کیاتونے تحیة المسجداداکی ہے؟تواس نے عرض کی:نہیں، توآپﷺ نے فرمایا:اٹھواوردورکعت نمازاداکرو۔(بخاری)

اندازبیان:

رسول اکرمﷺ جب خطبہ ارشادفرماتے توآپﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیںاورآوازبلندہوجاتی، آپﷺ اس طرح جوشیلے اندازمیں خطبہ ارشادفرماتے تھے جیساکہ آپﷺکسی لشکرسے ڈرارہے ہوں ، جس سے ڈرانے والاکہتاہے کہ دشمن تم پرصبح کے وقت حملہ آورہوگایاشام کے وقت۔(مسلم)

عصایاقوس پرٹیک لگانا:

حضرت حکم بن حزن الکفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اورمیں اس وفدمیں ساتواں یانواں شخص تھا۔(المختصر)ہم کئی دن تک وہیں رہے حتی کہ ہمیں رسول اکرمﷺ کے ساتھ جمعہ اداکرنے کاموقع ملاتوآپﷺ عصا(لاٹھی)یاکمان پرٹیک لگاکر(یعنی ہاتھ میں لے کر)کھڑے ہوئے اورآپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناءبیان فرمائی اوربہت ہی مختصر، جامع، پاکیزہ اورمبارک کلمات میں وعظ فرمایا۔(ابوداو¿د،ج:۱، ص:۰۴۲)

شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کرنا:

حضرت عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بشربن مروان کودیکھاکہ وہ منبرپہ کھڑے دونوں ہاتھوں کوبلندکئے ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا:اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کابراکرے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کوصرف اس طرح کرتے دیکھاہے اورانہوںنے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔(مسلم)

مناسب اشارے اوروقفات:

آپ ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ موضوع کی مباسبت اوربات سمجھانے کے لیے اشاروں اوروقفات کااستعمال کیاکرتے تھے۔مثلاً آپﷺ نے جب فرمایا:اناوکافل الیتیم کھاتین فی الجنة،تو آپ ﷺ نے اپنی دومبارک انگلیوں کوملاکراشارہ کیا۔

دوخطبوں کے درمیان بیٹھنا:

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ دوخطبے ارشادفرماتے اوران کے درمیان بیٹھاکرتے تھے۔(بخاری ومسلم)

خطبہ میں دعاکے لیے ہاتھ اٹھانا:

حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ نبی مکرمﷺ جمعہ کے روزخطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکرعرض کیا:اے اللہ کے رسول ﷺ!مال ومویشی ہلاک ہورہے ہیں ، اللہ سے بارش کے لیے دعافرمائیے، توآپﷺ نے ہاتھ اٹھاکردعاکی۔(بخاری)

خطبے کااختتام :

خاتمہ درحقیقت خطبہ کالب لباب اورخلاصہ ہوتاہے ۔آپﷺ کے خطبہ کے اختتام کے متعلق امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں :وکان یختم خطبة بالاستغفار۔”نبی کریمﷺ استغفارکے ساتھ اپناخطبہ ختم کیاکرتے تھے“۔

چنداوراندازخطابت

موقع کی مناسبت:

چنانچہ افصح العرب سیدالانبیاءﷺ کے خطبات جوکہ فصاحت وبلاغت کے لیے معیارہیں۔ان کاتذکرہ کرتے ہوئے امام ابن القیم ؒ فرماتے ہیں :وکان رسول اللہ ﷺ یخطب فی کل وقت بناتقتضیہ حاجة المخاطبین ومصلحتھم(زادالمعاد،ج:۱، ص:۹۸۱)
”نبی اکرم ﷺ ہمیشہ سامعین کی ضروریات اورمصالح کومدنظررکھ کرخطبہ ارشادفرمایاکرتے تھے“۔

پابندیِ وقت:

آپ ﷺ ہمیشہ خطبہ اختصارمخل اورطول ممل سے پاک ارشادفرماتے ۔حضرت عمارؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا:ان طول صلاة الرجل وقصرخطبتہ مئنةمن فھمہ۔ای علامة۔فا¿طیلواالصلاةواقصرواالخطبة، وان من البیان سحرا(مسلم)
”نمازکاطویل کرنااورخطبہ کامختصرکرناخطیب کی دانائی کی علامت ہے۔تم نمازلمبی اورخطبہ مختصرکرو، یقینابیان میں ایک جادوہے“۔

براہ راست کسی پرتنقیدسے گریز:

آپ ﷺ بغیرکسی کونامزدکیے جرائم کی نشاندہی اوران کی اصلاح فرماتے تھے۔آپﷺ کایہ بڑاہی حکیمانہ اسلوب تھا۔جیساکہ آپ ﷺ ایسے موقع پرفرمایاکرتے تھے:مابال اقوام یفعلون کذاوکذا”کیامعاملہ ہے اس قوم کاجوکرتے ہیں اس طرح اوراس طرح “۔
یوں اس سے نامزدگی بھی نہ ہوتی اورصاحب خطااپنی غلطی سے بھی آگاہ ہوجاتااورکوئی شراورفتنہ بھی پیدانہ ہوتا۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved