تازہ ترین  

حضور آئے توانسانوں کوجینے کاشعور آیا
    |     9 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
مبارک ماہ کی ملاقات ہورہی ہے جس میں نبی پاک ﷺ کی آمد ہوئی ظلمات سے نکل کر لوگ روشنی کی طرف سفر کرنے لگے چور چوکیدار بن گئے ،بچیوں کوزندہ درگور کرنے والے بچیوں کے محافظ ونگہبان بن گئے یقینا یہ اسی وقت ہواجب تاریخ میں ایک انقلاب آیاانقلاب بھی کسی کی بعثت کے ساتھ آیاسرورِ دوعالم ﷺکی بعثت کا واقعہ بلا شبہ انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ انقلاب آفریں واقعہ ہے ۔
انسانی دنیا تاریخ کے دوراہے پر کھڑی تھی ،عرب میں ایک طرف جہالت تاریکی بد امنی اور قتل غارت گری کا دور دورہ تھا تو دوسری طرف عجم کے فرماں روا اپنی بادشاہت اور تہذیب وتمدن کی آڑ میں عوام الناس کا استحصال کرکے اپنے جذبہ جہاگیری کو تسکین دے رہے تھے ۔انسانیت کا ضمیر نفس کے پنجہ میں سسک رہاتھا طاقتور کمزور کو اپنا غلام سمجھتا تھا اور کمزور محکومی کی حدوں سے گزرکرزورآوروں کی بندگی پہ مجبور ہوچکے تھے۔عدل وانصاف اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل چکا تھا لوگوں کے پاس آسمانی ہدایت کا کوئی قابل لحاظ نسخہ اپنی اصل شکل میں محفوظ نہیں تھا جو اس بحرانی کیفیت کا مداوا کر پاتا۔اہل کتاب کے احبار ورہبان کی کاروباری ذہنیت کے نتیجہ میں وحی ربانی کا وہ چشمہ صافی بھی گدلا ہو چکا تھا جو ایسی مشکل گھڑی میں ان تشنہ لبوں کی سیرابی کا سامان کر سکتا ۔کل ملا کر انسانی دنیا ایسے اندھیرے میں بھٹک رہی تھی جہاں روشنی کا کوئی گزر نہ تھا ۔تاریخ کے اس دور کو دور جاہلیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
لیل ونہار کی یہ گردشیں اس امر کی متقاضی تھیں کہ دنیا کے منظر نامہ پر ایک تاریخی انقلاب کاظہورہو۔تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جب انسانی دنیا اس قسم کے بحرانی حالات سے دوچار ہوئی ہے تو اس کارخانہ قدرت کے صانعِ حکیم نے تمدن کے گہوارہ کی حیثیت رکھنے والے مقامات پر ایسے افراد کو منصب نیابت پر مامور کیا جنھوں نے اپنی فوق العادت شخصیتوں کے ذریعہ اس ربع مسکون پر بسنے والے لوگوں کی رہبری کا فریضہ انجام دیا ۔چھٹی صدی عیسوی میں یہ حیثیت مکہ کو حاصل تھی جہاں عرب جیسی جفاکش بلند حوصلہ اور اولوالعزم قوم آباد تھی ۔ عرب قوم کی شناخت گردونواح میں بعض خصوصیات کی بنا پر مسلم تھی ۔اس میں قیادت کی اہلیت اور جوہر دونوں چیزیں موجود تھیں اس میں حوصلہ اور عزم کا ٹھاٹیں مارتا سمندر موجزن تھا ۔اس کے اندر انقلاب آفرینی کی بھرپور صلاحیت موجود تھی ۔ایسے وقت میں عرب کے سب سے معززاور مشہور قبیلہ قریش میں دنیا کے سب سے بڑے انسان کو اللہ تعالی نے وجود بخشا جو آگے چل کر جہالت وضلالت کی تاریک رات میں آفتاب رسالت بن کرابھرا اور بہت قلیل مدت میں اس کی جلوہ سامانی سے تمام شرق وغرب منورہو گئے ۔شاعر نے کیاخوب پہ منظر کشی کی ہے
حضور آئے توسر آفرینش پا گئی دنیا
اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آگئی دنیا
بجھے چہروں کوزنگ اتراسُتے چہروں پہ نورآیا
حضور آئے توانسانوں کوجینے کاشعور آیا

محمدرسول اللہ ﷺ کی بعثت کا واقعہ بلاشبہ انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے آپ ﷺکی آمد نے صفحہ ہستی پر جوانمٹ نقوش ثبت کئے ہیں وہ آج بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف بارہا کیا گیا اور رہتی دنیا تک کیا جاتا رہے گا ۔آپ ﷺکی عظمت شان کے اعتراف کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میداں میں متعدد غیر مسلم شخصیتوں نے طبع آزمائی کی ہے۔مشہور مصنف تھامس کارلائل نے اپنی کتاب ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ میں کمالات محمدی کا اعتراف کیا ہے ۔امریکہ سے تعلق رکھنے والے تاریخ داں اور ماہر فلکیات ڈاکٹرمائکل ہارٹ نے اپنی مایہ ناز تصنیف تاریخ کی سو انتہائی متاثر کن شخصیات میں آپﷺ کو سر فہرست تسلیم کیا ہے ۔دنیا میں بڑے لوگ بہت ہوئے ہیں مگر جو جامعیت آپﷺکو حاصل ہے اس کی کوئی دوسری مثال پیش کرنے سے دنیا کی تاریخ عاجز ہے۔آپﷺ کی دعوتی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو بجائے خود ہمارے لیے ایک نمونہ عمل نہ ہوقرآن کا بیان ہے۔البتہ تحقیق ہے تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ(القرآن)
ٓؒؒاللہ پاک نے نبی پاک ﷺ کوسارے جہاں کے لیے رحمت بناکر بھیج دیافرمایا۔اے نبی ہم نے آپ جہاں کے لیے رحمت ہی رحمت بنادیا(القرآن )
کسی نے کیاخوب شانِ رسالت میں ایک نقشہ کھینچاہے کہ ۔رحمة للعلمین آپ کا جبہ ہے اور خلقِ عظیم آپ ﷺ کا تاج ہے۔ صداقت اور امانت آپ ﷺکے لباس کا تانا بانا ہے۔ خوش خلقی کا رنگ آپ ﷺ کی فطرت حسنہ میں جلوہ گر ہے۔ حق کا نورانی حلقہ آپ ﷺکے سینہ مبارک کے گرد جگمگ جگمگ کرتا ہے۔ اللہ کا نور آپﷺ کے قلب صادق میں جمال آرا ہے۔ معرفت کا سرور آپﷺ کی کالی سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے مترشخ ہے۔ آپﷺ مجسم حق ہیں ۔ آپﷺ تفسیر قران ہیں۔ جب آپﷺ گفتگو کرتے ہیں تو جیسے پھول جھڑتے ہیں ۔ آپﷺ تبسم فرماتے ہیں تو دلوں کی فوج اسیرِ محبت ہو جاتی ہے۔ آپﷺ ادب سکھلانے والے ہیں۔ آپﷺ کی محفل سراپا ادب ہے۔ آپﷺ برتری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ آپﷺ سراپا رحمت ہیں جوبیٹھتے ہیں تو سب کے برابر ،جو چلتے ہیں تو سب کے درمیان ۔آپﷺ کی خاموشی میں ایک کائنات جذب ہے ۔ آپﷺ کی گفتگو پھولوں کی ایک جنت ہے ۔آپ ﷺ کی محفل موتیویں بھرا دریا ہے ۔ آپ ﷺخاموشی اختیار کرتے ہیں تو کائنات خاموش ہو جاتی ہے۔ آپ ﷺتبسم فرماتے ہیں تو سدا بہار باغ کِھل جاتے ہیں۔ فرشتے جن کی خوشہ چینی کرتے ہیں ۔ آپﷺاللہ کے کلام کی جب تلاوت فرماتے ہیں تو کائنات مسحور ہو جاتی ہے۔ آپ ﷺافسردہ ہوتے ہیں تو جہاں افسردہ ہو جاتا ہے۔ آپﷺ غمزدہ ہوتے ہیں تو جہاں آپﷺ کے ساتھ غمزدہ ہوتا ہے۔ آپﷺ تبسم فرماتے ہیں تو کائنات مسکراتی ہے۔ آپﷺ روتے ہیں تو کائنات روتی ہے۔ آپﷺناپسندیدگی کا اظہار فرماتے ہیں تو کائنات کانپتی ہے۔ آپﷺپیکرِ عفو ہیں۔ آپ ﷺ مظہر رحمت ہیں ۔ دوست پر رحمت فرماتے ہیں تو دشمن کو درگزر کرتے ہیں ۔ آپﷺ حلم کے نورانی مینار ہیں تو شفقت کے پھول ہیں ۔ آپﷺوعدہ کرتے ہیں تو ہر قیمت پرایفا کرتے ہیں۔ کوئی امر سخت ناپسندیدہ وقوع پزیر ہو تو سینہ بے کینہ میں رنجیدگی کا کچھ ایسا تموج پیدا ہوتا ہے کہ آبروں کے درمیان سے اٹھتی ہوئی وہ رگ جو آپ ﷺکی جبین مبارک سے مانگ تک جاتی ہے پھول جاتی ہے۔ مگر ناپسندیدگی ذات کے لئے نہیں کسی اصول کے لئے ہوتی ہے ۔ آپ ﷺ چلتے ہیں تو راستے میں ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کی خیریت پوچھ رہے ہیں اور شفقتیں فرمارہے ہیں
ہمیں وہ اپناکہتے ہیں محبت ہوتوایسی ہو
ہمیں نظروں میں رکھتے ہیں عنایت ہوتوایسی ہو

پیاری نبی ﷺکااخلاق عالیہ کودیکھ کرکئی لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے حضور اقدسﷺ کسی سفر میں تھے، ایک بکری پکانے کی تجویز ہوئی ، ایک شخص نے کہاکہ اس کا ذبح کرنا میرے ذمہ ہے۔ دوسرا بولاکہ اس کی کھال کھینچنا میرے ذمہ۔ تیسرے نے کہا اس کا پکانا میرے ذمہ۔ حضور ﷺنے فر مایا کہ لکڑیاں اکٹھا کرنا میرے ذمہ۔ آپ کے رفقا نے عرض کی کہ حضور!یہ بھی ہم ہی آ پ کی طرف سے کر لیں گے۔ آ پ نے فرمایا کہ ہاں!مجھے معلوم ہے کہ تم میری طرف سے کرلوگے ، لیکن مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ میں اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہوں اور اللہ پاک کو بھی ناپسند ہے اپنے بندے کی یہ بات کہ وہ اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہے، پھر آپ ﷺتشریف لے گئے اور خود لکڑیاں جمع فرمائیں۔
امتیازی شان اختیار کرنااور کولوگوں سے کام کروانااور خود ہٹ کر بیٹھ جانا نبی پاک ﷺکاپسند نہیں تھا۔آپ گھریلوکام میں بھی ازواجِ مطہرات کے ساتھ ہاتھ بٹایاکرتے تھے زندگی گزارنے کاسلیقہ آپ ﷺ نے امت کوسکھایا۔اس امت کی خاطر نبی پاک ﷺ نے راتوں کواٹھ اٹھ کردعائیں کیں اب ہمیں چاہیے کہ ان دعاﺅں کی لاج رکھتے ہوئے اعمال وافعال نبی علیہ السلام کے طریقوں کے مطابق کریں جنت میں جانے کایہی طریقہ ہے
اگر جنت میں جانے کاارادہ ہے تمامی کا
توگلے میں طوق ڈال محمد(ﷺ)کی غلامی کا

اللہ پاک ﷺ کے مبارک طریقوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین بحرمة سیدالانبیاءوالمرسلین)






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved