تازہ ترین  

ناموس رسالت
    |     7 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
ناموس رسالت
سید عزیرشاہ کاظمی 

اج کل ملک میں جو حالات چل رہے ہیں۔ کچھ دن قبل توہین رسالت میں سزا یافتہ ملعونہ آسیہ کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر رہا کردیا گیا۔ کہا یہ یہ جارہا ہے ۔کہ اسیہ کو بیرونی دباؤ کے باعث رہا کیا گیا ۔۔ اس معاملے میں یورپ اور دیگر NGO وغیرہ کی دلچسپی کیوں ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی بہت سے ایسے کیسیز سامنے آئے۔ جن میں غیر مسلم اور مسلم توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ۔جن کے فیصلے بھی ہوئے ۔لیکن اس کیس نے کچھ اور ہی موڑ لیا۔ کچھ عرصہ قبل جب ملالہ یوسفزئی کا واقعہ سامنے ایا ۔۔تو وہاں بھی یہی تھا کہ ملالہ کے ساتھ اور طالبات تھیں ۔زخمی بھی ہوئی لیکن انکا نام سامنے نہیں ایا ۔ملالہ کے لئے بھی مغرب و یورپ سرگرم رہا ۔اسے بھی ایوارڈ دیا گیا ۔۔وہ اس لئے وہ انکے کام کی تھی ۔ یہاں بھی اسیہ کے معاملہ میں یہی ہے کہ آسیہ انکے کام کی تھی ۔باقی کیسیز کے علاوہ انہوں اس میں دلچسپی لی ۔پھر ایک اور بات قابل غور ہے کہ اسیہ کے لئے بھی ایک ایوارڈ کا اعلان ہوا ۔ وہ ایوارڈ اسے آذادی اظہار رائے پر دیا گیا ۔اگر اسیہ بے قصور ہے اور اس نے کچھ نہیں کیا تو یہ ایوارڈ کیوں ؟ اس نے پھر کس پر اذادی سے اظہار رائے کیا ۔اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسا بار بار کیوں ہوتا ۔باربار یہ توہیں رسالت کے واقعات کیوں ہوتے ہیں ۔یہ بھی مغرب کی چال ہے۔ کہ اگر بار بار ایسا ہوتا تو لوگ عادی ہوجائے گے کہ یہ تو روز روز کی بات ہے ۔ اب کون باہر نکلے اور مولویوں کے پیچھے لگے۔ احتجاج کرے ۔یہ سب کرکے ہماری حساسیت کو ختم کیا جارہا ہے ۔ جب بار بار ایسا ہوگا ۔لوگوں میں احساس ختم ہوگا۔ احساس کے ساتھ ساتھ غیرت ختم ہوگی ۔اور لوگوں کا ایمان بھی ختم ہوگا ۔۔لوگ بے حس ہونگے۔ پھر مغرب کے لئے نئے نبی اتارنا آسان ہوگا ۔جن کے ذریعئے دین کو تبدیل کیا جائے گا ۔اور لوگوں کو اسلام، قرآن اور حضور نبی کریم سے دور کردیا جائے گا ۔۔
باقی رہا توہین رسالت ہر احتجاج کرنا حق ہے ۔اور پرامن رہ کر قانون کے دآئرہ کار میں احتجاج کیا جائے ۔یہ راستے بند کرنا ،توڑ پھوڑ ،بدامنی پیھلانا،حکمرانوں اور عدلیہ کے خلاف فتوے دینا اور انکے قتل کو جائز قرار دینا یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ پھر ان سب کے مرتکب اور گستاخ میں کوئی فرق نہیں ۔۔۔ پرامن احتجاج ہمارا حق ہے کیونکہ توہن رسالت کے معاملہ میں ہم سب فریق ہیں ۔۔ اور ریاست بھی فریق ہے ۔کیونکہ ریاست عوام کانمائندہ ہے ۔تو ریاست بھی فریق ہے ۔اس لئے ریاست کو چاہئے کہ اس معاملہ میں نظر ثانی کی اپیل وہ خود دائر کرے ۔۔۔۔۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved