نوجوانوں کو بھارتی ثقافت نہیں اپنے کلچر کی ترغیب دینی ہوگی،باؤاصغر علی
 
بھارتی فلموں اور ڈراموں کے باعث ہماری نوجوان نسل پاکستانی تحذیب و ثقافت کو فراموش کرتی جا رہی ہے لاہور(کلچر رپورٹر)پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر و رائٹر باؤاصغر علی نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ میری کامیابی میں محنت اور خلوص کا سب سے زیادہ کردار ہے مجھے جو مقام چند سالوں ملا کئی لوگوں کو زندگی بھر یہ مقام نہیں مل سکا مگر محنت اور خلوص ساتھ ہو تو منزل تک پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر دوسرے گھر میں بھارتی ثقافت کا غلبہ ہے ،پاکستان میں بھارتی ٹی وی چینلز کثرت سے دیکھے جاتے ہیں بھارتی فلموں اور ڈراموں کے باعث ہماری نوجوان نسل پاکستانی تحذیب و ثقافت کو فراموش کرتی جا رہی ہے،باؤ اصغر علی نے مزید کہا کہ ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر ہندی زبان کو اپنے روز مرہ کاموں کے دوران بولنے کو ترجیح دیتے ہیں اس ناسور کا توڑ کرنے کیلئے ہمیں اپنی پاکستانی فلموں اورٹی وی ڈراموں کی حو


حکومت کا شریف برادران کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ
 
تحریک انصاف کی حکومت نے رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا تھا سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے اپنے ہوائی سفر پر خرچ کیے اور رائے ونڈ کی سیکیورٹی پر بھی 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کے حق میں جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے جہاز اور ہیلی کاپٹر صرف عوامی خدمت کی ذمہ داری نبھانے کے لیے استعمال کیے اس لیے ان اخراجات کو فضولیات کے ضمرے نہیں ڈالا جاسکتا۔انہوں نے وضاحت دی کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی اپنے استحقاق اور قانون کے مطابق یہ سہولت لی جبکہ سول ایوی ایشن نے پنجاب حکومت کا جہاز ناقابلِ پرواز قرار دیا تھا، تاہم وہ قومی بچت کی خاطر زندگی کا خطرہ مول لے کر پھر بھی اسے استعمال کرتے رہے یہ سب


ایاز میمن موتی والا کا کراچی سینٹرل بچہ جیل کا دورہ، قیدی بچو ں سے ملاقات , نابالغ بچوں کا جرائم کی جانب بڑھنے کی وجوہات کا سدباب وقت کی اہم
 
معاشرے میں بڑہتی ہوئی بیروزگاری جرائم کی جانب پہلا قدم ہے ۔ ایاز میمن کراچی (آپکی بات) چیئر مین کراچی تاجر الائنس ایسو سی ایشن و بانی عام آدمی پاکستان ایاز میمن موتی والا کا کراچی بچہ جیل کا دورہ، نابالغ بچوں اور جیل سپرٹنڈنٹ سے ملاقات، ملاقات میں جیل میں موجود بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑہتی ہوئی جرائم کی شرح کو روکنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، نابالغ بچوں کا جرائم کی جانب بڑھنے کی وجوہات کا سدباب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، بچے ہمارے مستقبل کا معمار ہیں ان کی اصلاح اور تعلیم و تربیت والدین کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑہتی ہوئی بیروزگاری جرائم کی جانب پہلا قدم ہے ، جب پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں کو باعزت روزگار نہیں ملے گا تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے جرائم کا راستہ اختیار کریں گے، انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے


بینک ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض
 
گذشتہ چند ماہ سے لوگوں کےبینک کھاتوں میں کروڑوں اور اربوں روپے نکل رہے ہیں اور ہم محوِ حیرت ہیں کہ کیسے درویش لوگ ہیں کہ جن کے کھاتوں میں اتنی رقم ہے اور ان کی مال و دولت سے بے رغبتی کا یہ عالم ہے کہ انھیں معلوم ہی نہیں ہے۔ انھیں معلوم تب ہوتا ہے جب ایف بی آئی کے اہلکار انھیں بتاتے ہیں۔ اس کے بعد کھاتہ دار کے پاس لاعلمی کا اظہار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا۔ پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ایک مردہ شخص کے اکائونٹ میں بھی کوئی ڈیڑھ ارب نکل آئے ہیں۔ اب ایف ی آئی اہلکاروں کو سمجھ نہیں رہی کہ اس کھاتے کی تصدیق کے لئے کس کو بھیجیں کیونکہ کوئی بھی افسر اس اکائونٹ کی تصدیق کے لئے مرحوم سے ملنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک مرتبہ مخدوم امین فہیم کے کھاتے میں بھی ایک کروڑ روپے کسی جن نے ڈال دیئے تھے۔ انھیں بھی انکوائری پر معلوم ہوا۔ انھوں نے وہ رقم واپس کر کے جان چھڑوائی۔ اتفاق سے بینکوں کے کھاتے دار ہم بھی ہیں۔ ہم نے قریب قریب سبھی بینکوں میں کھاتے


کاش۔۔۔۔!
 
ہو محبت تم کو بھی ہم سے اے کاش ہو چاہت تم کو بھی ہم سے اے کاشبہت کر چکے تمہارا انتظار اب تو ضروری ہے تمہارا دیدارملنے آ جاٶ کبھی خواب میں ہی سہی اے کاش نجات ہم کو ملے دردِ حجر سے اے کاش بھیگی ہیں پلکیں تمھارے بنا ویران ہے دنیا تمہارے بنا یوں نا تڑپاٶ ہمیں مت ترساٶ ہمیں پاس آٶ یا پاس آنے دو ہمیں ہو محبت تم کو بھی ہم سے اے کاش ہو چاہت تم کو بھی ہم سے اے کاش پیار کرنا ہم کو نہیں آتا بے شکپیار تمہی سے کرتے ہیں بے شک بہت پیار کرتے ہیں تم کو چشتی دیدار کرانے آ جاٶ کبھی اے کاش


گرم انڈے سے گندے انڈے تک
 
اپنے ہی گھر کی بیل بجا کر منتظر تھا کہ ابھی میرا بیٹا اسما عیل گیٹ کھولنے سے قبل بآواز بلند پوچھے گا کہ کون؟کہ اتنے میں گلی کی نکڑ سے بہت ہی مترنم مگرپرسوز صدا میری سماعتوں سے ٹکرائی کہ ’’آ۔۔نڈے۔۔۔گرم آ۔۔۔نڈے‘‘بچے کی آواز کی سماعت مجھے پردہ تخیل میں بھٹو کے اس بیان کی باز گشت سنائی دی کہ مجھے معلوم ہے میری پارٹی میں کچھ گندے انڈے بھی موجود میں جنہیں میں اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے نکال باہر کرونگا۔بھٹو کا یہ بیان اس لئے سنا سنایا محسوس ہوا کہ قیام پاکستان کے فورا بعد جب محمد علی جناح سے سیاسی ٹیم کے حوالہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا کہ’’مجھے معلوم ہے کہ میری پارٹی میں کچھ کھوٹے سکے بھی موجود ہیں‘‘قائد اعظم کی حیات ان سے وفا نہ کر پائی جس کی وجہ سے وہ تمام کھوٹے سکے پارٹی میں موجود رہے۔ایسے ہی کچھ سکے جو بھٹو دور میں گندے انڈے بن چکے تھے انہی سکوں اور انڈوں کے ہاتھوں بھٹو جیسا سیاسی شاطر بلیک


سعادت حسن منٹو کی63ویں برسی کل منائی جائے گی
 
ڈسکہ (وائس آف ڈسکہ رپورٹ)عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی تریسٹھویںبرسی کل18جنوری کومنائی جا ئے گی۔منٹو 11 مئی 1912 کو سمبڑالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور مصنف کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ صحافت کے ساتھ ساتھ ریڈیو سے بھی وابستہ رہے، فلموں اور ڈراموں کے سکرپٹ بھی تحریر کئے لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کے افسانے ہیں۔ منٹو 1948 میں ہندوستان سے ہجرت کرکے لاہورآگئے اور باقی زندگی یہیں بسر کی۔معاشرتی دورفتگی کو آشکار کرنے والے افسانوں کی وجہ سے انہیں مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ منٹو کے انکل سام کے نام سے لکھے گئے خطوط پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیوں پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے کہ آج بھی ان کی طرف سے اٹھائے گئے سوال تشنائے جواب ہیں اور حالات ان کی تحریروں کی تعبیر نظر آتے ہیں۔ منٹو کی تحریروں کے کئی مجموعے منظر عام پر آئے جن میں آتش پارے، منٹو کے افسانے ، ڈرامے اور من


ماما ماما مجھ کو بچا لو
 
ON KASUR INCIDENT August 2017ننھا سا پیارا سا بچہ رات کے پچھلے پہر میں ڈر کراٹھ کر بیٹھ گیا ہےماما ماما .....مجھ کو بچا لومجھ کو کنویں میں لٹکا دیں گےکاٹن کا جو کرتا ماما پیار سے آپ نے سی کے دیا ہے اس کو داغ لگا دیں گے پھر مجھ کو جھنجھوڑیں گے پھر مجھ کو تڑپا دیں گے ماما ماما ........مجھ کو چھپا لو جلادوں سے مجھ کو بچا لو ماما ماما بات سنو نا میں اسکول نہیں جاؤں گا دوست میرے طعنے دیں گے کیسے پڑھوں گا کیسے بڑھوں گا روشن نام میں کیسے کروں گا ماما میرا جرم بتاؤ جس کی سزا میں نے پائی ہے اب تو ہر اک سانس میں جیسے رسوائی ہی رسوائی ہے  ماما یہ حاکم سے پوچھو کب حالات اچھے ھوں گے کچھ تو وہ اقدام کریں گے ان کے بھی تو بچے ھوں گے؟؟؟عابد عمر


تصویر
 
موڑ کاٹ کر وہ یکلخت رک جاتا ہے اور پریشان ہو کر ادھر ادھر نظریں دوڑاتا ہے لیکن دور دور تک کسی ذات کا کوئ نام و نشان تک نہیں ۔ اب وہ سردی بھی محسوس کرنے لگا ہے اسکے ہاتھ پاوں شل ہو رہے ہیں ہلکی ہلکی سرد ہوا سے اس کے جسم میں سنسنی کی لہر پیدا ہو گئی ہے وہ ایک بار پھر چلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے قدم اٹھانا محال لگ رہا ہے وہ سوچتا ہے میں یہاں کیوں ہو وہ کون تھا جس کی تلاش میں آج میں یہاں تک پہنچ چکا ہوں وہ ایک بار پھر کوشش کرتا ہے کہ اس دلدل سے نکلوں لیکن بے سود تھک ہار کر وہ وہیں بیٹھ جاتا ہے سرد ہوائیں تیز ہوتی جارہی ہے اس کی یادداشت منجمد ہونے لگی ہے اور جسم مفلوج ہو چکا ہے اور بے بسی کے عالم میں اس راستے کی طرف دیکھتا ہے جس راستے پر کسی ذات کا نام و نشان تک نہیں ہے اس کی آنکھوں میں نمی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے وہ سوچتا ہے کہ وہ کس کی ذات کو تلاش کرنے میں سرگرداں ہے کیا وہ اسے چاہتا بھی ہے یا نہیں یہ سوچتے ہوے وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگ


نوجوانوں کو بھارتی ثقافت نہیں اپنے کلچر کی ترغیب دینی ہوگی،باؤاصغر علی
 
بھارتی فلموں اور ڈراموں کے باعث ہماری نوجوان نسل پاکستانی تحذیب و ثقافت کو فراموش کرتی جا رہی ہے لاہور(کلچر رپورٹر)پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر و رائٹر باؤاصغر علی نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ میری کامیابی میں محنت اور خلوص کا سب سے زیادہ کردار ہے مجھے جو مقام چند سالوں ملا کئی لوگوں کو زندگی بھر یہ مقام نہیں مل سکا مگر محنت اور خلوص ساتھ ہو تو منزل تک پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر دوسرے گھر میں بھارتی ثقافت کا غلبہ ہے ،پاکستان میں بھارتی ٹی وی چینلز کثرت سے دیکھے جاتے ہیں بھارتی فلموں اور ڈراموں کے باعث ہماری نوجوان نسل پاکستانی تحذیب و ثقافت کو فراموش کرتی جا رہی ہے،باؤ اصغر علی نے مزید کہا کہ ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر ہندی زبان کو اپنے روز مرہ کاموں کے دوران بولنے کو ترجیح دیتے ہیں اس ناسور کا توڑ کرنے کیلئے ہمیں اپنی پاکستانی فلموں اورٹی وی ڈراموں کی حو


صحت کی سہولتوں کا فقدان
 
بدقسمتی دیکھئے کہ ہراج خاندان کا اقتدارہو یا ڈاھا فیملی کا عروج عبدالحکیم اور عبدالحکیم کی عوام کو ہمیشہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور پھینک دیا گیا ہمیشہ سے ضلع خانیوال عبدالحکیم پر حاکم رہا ہے اور ضلع خانیوال نے اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیے عبدالحکیم پر اکاس بیل کا کردار ادا کیا اکاس پیلے رنگ کی ایک بل دار بیل ہوتی ہے وہ جس درخت پر چڑھ جاے اس کو پھلنے پھولنے نہیں دیتی یہی حال خانیوال نے عبدالحکیم کا کیا ہے عبدالحکیم گزشتہ 20 سالوں سے ہلکی آنچ پر سلگ رہا ہے اور ہر الیکشن میں سیاستدان مختلف نعروں سے اس سلگتی آگ کا عوام کو ایندھن بناتے ہیعبدالحکیم چونکہ نواحی دیہات پر مشتمل علاقہ ہے اور یہاں پر تعلیم کی شدید کمی ہے اس لیے عوام میں سیاسی شعور کم تھا مگر اب حالات بدل چکے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال عبدالحکیم میں ہر ادارے کا سکول ہے آنے والے دس سالوں میں عبدالحکیم کی عوام میں 40 فیصد پڑھے لکھے مکمل سیاسی شعور رکھنے والے نوجوا


ہنڈا 125 کا نیا ماڈل 2019 سامنے آگیا ، نئی ہنڈا 125 میں پانچ گیئر ہوں گے۔۔۔دیگر تفصیلات جانیے
 
ہنڈا 125 کا نیا ماڈل 2019 سامنے آگیا ، نئی ہنڈا 125 میں پانچ گیئر ہوں گے۔ یہ موٹرسائیکل 2 ورژن میں دستیاب ہوگی جن میں سے ایک بیسک اور دوسرا اسپیشل ایڈیشن ہے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ موٹرسائیکل فور اسٹروک او ایچ وی ائیرکول انجن سے لیس ہوگی جبکہ اسے اسپورٹس لک دیا گیا ہے۔اس موٹرسائیکل میں سیلف اسٹارٹ اور کک اسٹارٹ دونوں آپشنز دیئے گئے ہیں جبکہ اس کے فیول ٹینک میں 12.3 لیٹرز پٹرول کی گنجائش موجود ہے۔اس موٹرسائیکل میں 5 اسپیڈ گیئرز دیئے گئے ہیں۔ یہ موٹرسائیکل بلیک، ریڈ اور بلیو رنگوں میں دستیاب ہوگی۔ اس کے بیسک ماڈل کی قیمت ایک لاکھ 59 ہزار 900 روپے جبکہ اسپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 61 ہزار 900 روپے رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ہونڈا موٹر سائیکل کے دو ماڈل سی ڈی 70 سی سی اور سی جی 125 کی طلب زیادہ ہے اور دونوں پریمیم رقم میں تاحال فروخت ہو رہی ہیں۔(بشکریہ ڈان نیوز)


سابق کپتان وسیم اکرم سرفراز احمد کی حمایت میں بول پڑے ، تفصیلات جانیے
 
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق کپتان وسیم اکرم سرفراز احمد کی حمایت میں بول پڑے ، ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں کپتان کی تبدیلی کی بجائے سرفراز احمد کو وقت دینا چاہیے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ٹیم میں اس وقت کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو سرفراز احمد کا متبادل ہو، ٹیسٹ کرکٹ ایک مشکل فارمیٹ ہے اس لیے میرے خیال میں سرفراز کو تھوڑا وقت دینا چاہیے۔ انہوں نے 'مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ہم اس بات پر حیران کیوں ہیں کہ پاکستانی بلے باز وہاں ناکام ہو رہے ہیں، ہم بھی جب وہاں کھیلتے تھے تو ہمیں بھی مشکل ہوتی تھی کیونکہ وہاں کی پچز ہماری پچز سے مختلف ہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں مستقبل میں یہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے کہ ہم جب بھی جنوبی افریقہ، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ میں کھیلنے جائیں تو سیریز سے قبل کم از کم دو فرسٹ کلاس میچز کھیلیں تاکہ باؤلرز اور بیٹسمین پچ کا بہتر اندازہ کر سکیں۔'مزید تفصیلات کے لیے ڈان نیوز کی یہ ویڈ


فیس بک پیج

مقبول ترین

تعارف / انٹرویو

آج کے کالم و مضامین

اہم خبریں

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

ویڈیوز
اشتہارات


آپکی بات ڈاٹ کام آپ کی اپنی ویب سائٹ ہے ، ہمارے ساتھ رہنے کا شکریہ
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved