اشتہارات
ویڈیوز
انسانیت کی خدمت کرنا عبادت ہے اور اس کو عبادت سمجھ کر کرنا چاٸیے ، ایم پی اے ملک شاہ محمد جوٸیہ کا تقریب سے خطاب
 
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کامیاب کرتا ہے جو لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ، ملک حسن یٰسین حاصل والا (سماجی رپورٹر ) کرم خدمت فاٶنڈیشن کی حاصل والا میں ایک تقریب منعقد کی گٸی ۔ جس میں اہلیاں علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایم پی اے ملک شاہ محمد جوٸیہ تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوٸے ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت کرنا عبادت ہے ۔ غریب ، یتیم اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا عبادت ہے ۔ کرم خدمت فاٶنڈیشن کے صدر ملک حسن یٰسین کا کہنا تھا کہ ہماری خوشی اور کامیابی اس وقت ہوتی ہے جس وقت کوٸی ہماری وجہ سے خوش ہو اور کامیاب ہو ۔ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو کامیاب اور پسند کرتا ہے ۔ تقریب کے دوران لوگوں نے کرم خدمت فاٶنڈیشن کی گزشتہ کارکردگی کو سراہا ۔


قطری پورٹ کو کراچی پورٹ سے منسلک کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان
 
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قطری پورٹ کو کراچی پورٹ سے فیری کے ساتھ منسلک کیا جارہا ہے، بندرگاہوں کے رابطوں سے یقینا پاکستان کی قطر کو برآمدات میں 73 فیصد اضافہ متوقع ہے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل غنیم بن شاہین نے وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی تھیں اور دو طرفہ فوجی تعاون بڑھانے سے متعلق معاملات، خطہ میں امن و امان کے استحکام پر تبادلہ خیال اور پاک قطر باہمی مفادات پر مبنی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی پورٹ کے متعلق خصوصی گفتگو ہوئی- عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قطرکی جانب سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور مزدور و محنت کشوں کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں دفاتر کھولنے پر قطر کے شکرگزار ہیں۔خان صاحب کا


انسانیت کی خدمت کرنا عبادت ہے اور اس کو عبادت سمجھ کر کرنا چاٸیے ، ایم پی اے ملک شاہ محمد جوٸیہ کا تقریب سے خطاب
 
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کامیاب کرتا ہے جو لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ، ملک حسن یٰسین حاصل والا (سماجی رپورٹر ) کرم خدمت فاٶنڈیشن کی حاصل والا میں ایک تقریب منعقد کی گٸی ۔ جس میں اہلیاں علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایم پی اے ملک شاہ محمد جوٸیہ تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوٸے ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت کرنا عبادت ہے ۔ غریب ، یتیم اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا عبادت ہے ۔ کرم خدمت فاٶنڈیشن کے صدر ملک حسن یٰسین کا کہنا تھا کہ ہماری خوشی اور کامیابی اس وقت ہوتی ہے جس وقت کوٸی ہماری وجہ سے خوش ہو اور کامیاب ہو ۔ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو کامیاب اور پسند کرتا ہے ۔ تقریب کے دوران لوگوں نے کرم خدمت فاٶنڈیشن کی گزشتہ کارکردگی کو سراہا ۔


جمال خشوگی ۔۔۔ تحریر : رانا عبدالرؤف خاں
 
جمال خشوگی نے اس سال چار اکتوبر کو الجزیرہ ٹی وی کے شہرہ آفاق ٹاک شو پروگرام ''اپ فرنٹ'' میں کھُل کر سعودی کراون پرنس شہزادہ محمد بن سلمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناممکن ہے کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک جمہوری ملک بن سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج سعودی عرب میں سینکڑوں کے حساب سے انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور دانشور غیرقانونی حراست میں ہیں کیونکہ اُن سب کا جُرم ایک ہی ہے کہ وہ یہ خام خیال رکھتے تھے کہ سعودی عرب میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ جمال خشوگی سعودی عرب کے ایک مشہور علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو کہ اعلیٰ تعیلم یافتہ تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان پر تنقید کی وجہ سے اُنہیں پہلے سے ہی علم ہوگیا تھا کہ اُن کی جان کو سعودی عرب میں خطرہ ہے اس لئیے اُنہوں نے ایک سال قبل ہی سعودی عرب کو خیر آباد کہ دیا اور امریکہ جا کر خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔ جمال خشوگی کے سعودی انٹیلی جنس ایجنسی میں بہت سے سورسز تھے جو اُس


اپنا شمار تھوڑی ہے
 
  اپنا شمار تھوڑی ہے معجزے ہوا کرتے ہیں اسی دنیا میں پر ایسوں میں اپنا شمار تھوڑی ہے جن کے لوٹنے کی مانگتے تھے دعا وہ چلے تو آئے ہیں اب یہ آہ کس لیے زخم دنیا بھی رکھتی ہے ہرے سارا دارومدار انہی پر تھوڑی ہے سینچ کر رکھتے ہیں ہم غم بھی اپنے مجال جو بانٹیں،اتنے سخی تھوڑی ہیں سوچتا ہوں وہ آ کر سب ٹھیک کر دیں پر وہ اللہ دین کا چراغ تھوڑی ہیں ہاں کہیں تو صحیح گر نہ کر دیں تو خفا آپ بھی کمال ہو ،ہم مشین تھوڑی ہیں دوسروں پر اٹھاتی ہے انگلی دنیا ایسے جیسے بھول گئی ہو ،خود انسان تھوڑی ہے اکثر غلطی کر ہی جاتے ہیں، معاف کیجئے گا انسان ہیں ،خطاکار ہیں،فرشتہ تھوڑی ہیں اہل زبان تو ہمیشہ سے ہی راج کرتے ہیں دلوں پر پر ان میں آس ہم سے زبان دراز تھوڑی ہیں ۔


فیس بک جنریشن (طنز و مزاح)
 
۔اپنی کلاس کے(بطور ٹیچر ایک ادارے میں کام کرتا ہوں)ایک ممی ڈیڈی بچے سے پوچھا کہ"آپ کے پاپا کیا کرتے ہیں"تو شرماتے،لجاتے،لچکاتے ہوئے گویاہوا کہ "سر پاپا وہی کرتے ہیں جو مما کرواتی ہیں"۔۔۔۔۔اور پاپا؟۔۔۔"جی پاپا وہی کرتے ہیں جو مما چاہتی ہیں۔"۔۔۔اور مما کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔وہ کیا چاہیں گی سر "مما تو خود پاپا کی چاہت ہیں".ایسے بچوں کو,F B generation yuppy بچے بھی کہتے ہیںیعنی جو بات سمجھ نہ آئے اس پہ yup,yup اور سمجھ آ جائے تو waooo ۔انہیں she بچے بھی کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ ہر بات پہ "she,she" یا "سی،سی " کہہ رہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھار تو یہ" سی "کہتے نہیں بلکہ نکل جاتی ہے۔ایسے بچوں کا کوئی اور فا ئدہ ہو نہ ہو خرچہ بہت کم کرواتے ہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک بہن کے ساتھ ایک ممی ڈیڈی بچہ مفت میں پرورش پا جاتا ہے۔کہ ماسوا "انڈرگارمنٹس" کے ہر شے باجی کی استعمال شدہ اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔اور تو اور باجی کے جھمکے تک پہن کر جھمک جھمک اور ٹھمک ٹھمک کے سے اند


عشق میرارفیق ہے شاہد
 
پاکستان ایسوسی ایشن قطر کا میں دو حوالوں سے تا زیست ممنون رہونگا ۔ایک مجھ ایسے گمنام شخص کو نطقِ اظہار کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا اور دوسرا بہت سے مخلص دوستوں سے متعار ف کروایا۔ان احباب کی فہرست میں شاہد رفیق ناز میرے دل کے بہت قریب اس لئے ہے کہ عہدحاضر کے منافقت سے بھر پور رویوں کے بحیروں میں، سچ کی ناﺅ کو خلوص کے پتواروں سے ،دوہرے معیار سے دورایسے ماجھی کی طرح روانی سے چلائے جا رہا ہے جس کے پیش نظر نہ صرف خود کو پار لگانا ہے بلکہ ہمسفروں کو بھی ان جزیروں تک پہنچانا ہے جہاں انس و انسانیت کے عنبر و ریحان کے کوہِ عظیم ان کے منتظر ہوں۔شاہد رفیق ناز پاکستان سے دور بسنے والی ادبی بستیوں میں سے ایک ادبی بستی جسے ارد و ادب کی سب سے بڑی بستی خیال کیا جاتا ہے یعنی دوحہ قطر کا مقیم ہے۔قطر کی مردم خیز زمین پر رونما ہونے والے ادبی معرکوں کا عینی شاہد اور یارِ طرح دار کا رفیق بھی ہے۔جس پہ بلا شبہ جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے۔میں نے نجماًنجماً ج


ماما ماما مجھ کو بچا لو
 
ON KASUR INCIDENT August 2017ننھا سا پیارا سا بچہ رات کے پچھلے پہر میں ڈر کراٹھ کر بیٹھ گیا ہےماما ماما .....مجھ کو بچا لومجھ کو کنویں میں لٹکا دیں گےکاٹن کا جو کرتا ماما پیار سے آپ نے سی کے دیا ہے اس کو داغ لگا دیں گے پھر مجھ کو جھنجھوڑیں گے پھر مجھ کو تڑپا دیں گے ماما ماما ........مجھ کو چھپا لو جلادوں سے مجھ کو بچا لو ماما ماما بات سنو نا میں اسکول نہیں جاؤں گا دوست میرے طعنے دیں گے کیسے پڑھوں گا کیسے بڑھوں گا روشن نام میں کیسے کروں گا ماما میرا جرم بتاؤ جس کی سزا میں نے پائی ہے اب تو ہر اک سانس میں جیسے رسوائی ہی رسوائی ہے  ماما یہ حاکم سے پوچھو کب حالات اچھے ھوں گے کچھ تو وہ اقدام کریں گے ان کے بھی تو بچے ھوں گے؟؟؟عابد عمر


سب سے بڑا سچ
 
آنکھ بند ہو اور آدمی افسانہ ہو جاۓ ۔۔۔۔۔!"نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔ ابھی کل ہی تو میری فرح سے بات ہوئی تھی۔ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ اب اچانک یہ۔۔۔۔تم پاگل ہو گئی ہو کیا۔۔۔۔ مومنہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ خبر دینے سے پہلے تصدیق تو کر لیا کرو" وہ فرح کی موت کی خبر سُن کر ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی کہ مومنہ کی اگلی بات سن کر اسے نہ چاہتے ہوے بھی یقین کرنا ہی پڑا ۔۔۔۔۔ "میں اس کی میت کے پاس بیٹھی ہوں اور کیا تمہیں تصدیق چاہییے "۔۔۔۔۔ الفاظ تھے کہ ایٹم بم جو کہ اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے اور ریسیور اس کے ہاتھ سے گرتا چلا گیا۔۔نٹ کھٹ سی فرح کی عمر ہی کیا تھی ابھی صرف اکیس برس۔۔۔ ابھی تو اس کے کھیلنے کودنے کے دن تھے۔ اس کی بہن کی بابت معلوم ہوا کہ کل اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ہسپتال لے جایا گیا۔ چیک اپ کرنے پر پتا چلا کہ کہ اس کو تو پرانی شوگر ہے جس کی پہلے کبھی تشخیص نہیں ہوئی تھی اور اس وقت شوگر لیول کافی ہائی تھا وہ زندگی اور موت کی


مخالفین کی پرواہ نہیں اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں ،ماڈل ثنا ء نور
 
مخالفین کی پرواہ نہیں اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں ،ماڈل ثنا ء نور جن کو دنیا کا کوئی کام نہ ہو وہ ہمیشہ دوسروں میں خامیاں تلاش کرتے رہتے ہیں،گفتگو لاہور( شوبز رپورٹر )مخالفین اور حسد کرنے والوں کی پرواہ نہیں اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں جن کو دنیا کا کوئی کام نہ ہو وہ ہمیشہ دوسروں میں خامیاں تلاش کرتے رہتے ہیں محنت اور لگن سے کام کر کے آگے بڑنا ہی فنکار کی اصل کامیابی ہوتی ہے سفارش کا سہار ا لے کر کسی بھی فیلٹ میں کامیابی نہیں ملتی ان خیالات کا اظہار پاکستان کی معروف ماڈ ل و اداکارہ ثناء نور نے یواین پی سے گفتگو میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ کسی سے حسد کرنے پر بھی کامیابی نہیں ملتی ہے ،کامیابی اپنی فنی صلاحیتوں سے ملتی ہے ۔


پروگرام نمبر 176 بعنوان ادبی تنقید کے اہداف
 
رپورٹ شمس الحق لکھنوی ہندوستانThe international organization ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری عالمی منفرد پروگرام نمبر 176 بعنوان *ادبی تنقید کے اہداف* بروز ہفتہ شام سات بجے منعقد ہوا یہ پروگرام کئی وجہ سے یادگار پروگرام رہا ایک تو ابھی تک ادارے کے سارے پروگرام برائے تنقید ہوا کرتے تھے اور یہ پروگرام خود تنقید کے عنوان پر منعقد جسکو خاکسار *شمس الحق لکھنوی* نے آرگنائز کیا اور نظامت کے فرائض *ضیا شادانی* بھارت نے انجام دیے پروگرام کا آغاز صابر جاذب لیہ پاکستان کی خوبصورت نعت پاک سے ہوا*بلکتے اشک نہیں ہیں فضول آنکھوں میں* *مہک رہے ہیں عقیدت کے پھول آنکھوں میں* اسکے بعد پروگرام اپنے مقصد اصلی کی جانب گامزن ہوا جہاں پر تنقید سے متعلق علمی سوال اور جواب دیے گئے سوال نامہ جناب *ارشاد خان ممبرا* نے تیار کیا جسکے جواب ادارے کے معتبر شاعر ادیب جنکی شاعری میں اقبالی استدلال اور الفاظ میں غالبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے جو فن پر زبردست قدرت کے ساتھ لغت کے بھی ما


ناممکن سے ممکن تک کا سفر۔۔۔!
 
مانیہ سکوڈوسکا ایک شرملی لڑکی جسے دنیا مادام کیوری کے نام سے جانتی ہے کی کہانی جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور جینے کا ہنر سکھاتی ہے ۔دنیا کی نامور ترین خاتون سائنس دان جس کو کسی زمانے میں سردی سے بچنے کیلئے رات کو اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھنا پڑتا۔میں کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک میرے دھیان کاغذ پر لکھے ایک نام پر گیا جس نے میرے ذہن کو اپنے حصار میں لے لیا اور مجھے تخیل کی دنیا میں کئی سال پیچھے لے گیا ۔جہاں مادام کیوری جس کا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئیں ، پہلی مرتبہ جسے سائنس میں خدمات کے عوض دو مرتبہ نوبل پرائز دیا گیا ایک مرتبہ 1903 میں فزکس میں نمایاں کام سرانجام دینے پر اور پھر 1911 میں کیمسٹری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر۔حقیقتا اگر جوانی میں پولینڈ کا خوشحال گھرانا اس کی بےعزتی نہ کرتا تو وہ نہ سائنس دان بنتی اور نہ ہی ریڈیم دریافت کر سکتی . واقعہ دراص


فضل محمود نیشنل کلب کرکٹ چیمپٸین شپ 2018 ٕمیں پرنس کرکٹ کلب رجسٹرڈ کی پہلی کامیابی
 
پرنس کرکٹ کلب نے پنتھر کرکٹ کلب کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی لودھراں (سپورٹس رپورٹر) تفصیل کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام لودھراں میں فضل محمود نیشنل کلب کرکٹ چیمپٸین شپ 2018 ٕ جاری ہے ۔ گزشتہ روز پرنس کرکٹ کلب نے اپنے پہلے میچ میں پنتھر کرکٹ کلب کو شکست دیدی ۔ پرنس کرکٹ کلب نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ۔ پنتھر کرکٹ کلب کی پوری ٹیم 124 رنز بناسکی ۔ پرنس کرکٹ کلب کی جانب سے ظفر اقبال نے 5 اور رانا فرحان نے 3 وکٹیں حاصل کیں ۔ پرنس کرکٹ کلب نے مقرر ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا ۔ راشد نے 60 اور عثمان نے 40 رنز بناٸے ۔


فیس بک پیج

ہیلتھ آرٹیکلز

مقبول ترین

تعارف / انٹرویو

دلچسپ و عجیب

اسلامی و سبق آموز

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

ویڈیوز
اشتہارات

آپکی بات ڈاٹ کام آپ کی اپنی ویب سائٹ ہے ، ہمارے ساتھ رہنے کا شکریہ
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved